آل عمران · 168/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
الَّذِينَ قَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُوا لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا ۗ قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ۝١٦٨
Allazeena qaaloo liikhwaanihim wa qa`adoo law ataa`oonaa maa qutiloo; qul fadra`oo`an anfusikumul mawta in kuntum saadiqeen
📖 اردو ترجمہ
یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ تعالیٰ اس آیت میں منافقوں کے اس قول کا ذکر فرما رہے ہیں جو انہوں نے اپنے بھائیوں کے بارے میں کہا تھا۔

معانی الفاظ:

  • لِإِخْوَانِهِمْ: ان کے بھائیوں کے لیے (یہاں مراد نسبتی بھائی ہیں، دینی بھائی نہیں)
  • وَقَعَدُواْ: اور وہ بیٹھے رہے (یعنی جہاد سے پیچھے رہے)
  • فَادْرَؤُواْ: پس تم دفع کرو، ٹالو
  • صَادِقِينَ: سچے ہو

تفسیر:

یہ آیت ان منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی جو غزوہ احد کے موقع پر جہاد سے پیچھے رہے اور اپنے ان رشتہ داروں کے بارے میں جو میدان جنگ میں شہید ہوئے، کہنے لگے: "اگر یہ لوگ ہماری بات مان لیتے اور جنگ میں نہ جاتے تو کبھی قتل نہ ہوتے۔" یعنی انہوں نے اپنے پیچھے رہنے کو عقلمندی اور شہداء کے قتل کو ان کی نافرمانی کا نتیجہ قرار دیا۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیالِ فاسد کی تردید میں اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ ان سے کہیں: "اگر تم سچے ہو تو پھر اپنے آپ سے موت کو ٹال کر دکھاؤ۔" یعنی اگر تمہارا یہ دعویٰ درست ہے کہ جنگ سے پیچھے رہنا موت سے بچاتا ہے، تو پھر جب تمہاری موت کا وقت آئے تو اسے اپنی تدبیروں اور حیلوں سے ٹال کر دکھاؤ۔ یہ ایک ایسا چیلنج ہے جس کا جواب کوئی نہیں دے سکتا، کیونکہ موت کا وقت مقرر ہے اور اللہ کے حکم کے بغیر نہ کوئی مرتا ہے اور نہ زندہ رہتا ہے۔

اس آیت میں بڑا عبرتناک سبق ہے کہ انسان موت سے بھاگ کر نہیں بچ سکتا۔ جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہوتا ہے، وہ درحقیقت سب سے بڑی کامیابی حاصل کرتا ہے، جبکہ جو شخص ڈر اور بزدلی کی وجہ سے پیچھے رہتا ہے، وہ نہ تو اپنی موت کو ٹال سکتا ہے اور نہ ہی اسے دنیا میں عزت ملتی ہے۔

پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ موت ہر حال میں آنی ہے، چاہے ہم جنگ میں جائیں یا گھر میں بیٹھے رہیں۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، جہاد کرنا اور نیکی کے کاموں میں جلدی کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتا ہے، اللہ اسے شہادت کا مقام عطا فرماتا ہے جو جنت کے اعلیٰ درجات میں سے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بزدلی اور پیچھے رہنے کو عقلمندی نہ سمجھیں، بلکہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس کی راہ میں آگے بڑھیں، کیونکہ اللہ ہی موت اور زندگی کا مالک ہے اور وہی اپنے مخلص بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 166-170 — آل عمران

166وَمَا أَصَابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيَعْلَمَ الْمُؤْمِنِينَ
اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے (واقع ہوئی) اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم
167وَلِيَعْلَمَ الَّذِينَ نَافَقُوا ۚ وَقِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوِ ادْفَعُوا ۖ قَالُوا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّاتَّبَعْنَاكُمْ ۗ هُمْ لِلْكُفْرِ يَوْمَئِذٍ أَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْإِيمَانِ ۚ يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِم مَّا لَيْسَ فِي قُلُوبِهِمْ ۗ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يَكْتُمُونَ
اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے
168الَّذِينَ قَالُوا لِإِخْوَانِهِمْ وَقَعَدُوا لَوْ أَطَاعُونَا مَا قُتِلُوا ۗ قُلْ فَادْرَءُوا عَنْ أَنفُسِكُمُ الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا
169وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ
جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے
170فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِن فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِم مِّنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ
جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں۔ اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
168آیت

ترجمہ — آل عمران 168

سورہ آل عمران آیت 168 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے…

سورہ آیت 168/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 166–170. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں