Wa liya`lamal lazeena naafaqoo; wa qeela lahum ta`aalaw qaatiloo fee sabeelil laahi awid fa`oo qaaloo law na`lamu qitaalallat taba`naakum; hum lilkufri yawma`izin aqrabu minhum lil eemaan; yaqooloona bi afwaahihim maa laisa fee quloobihim; wallaahu a`lamu bimaa yaktumoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و آنان را نيز كه نفاق ورزيدند، معلوم دارد. به آنها گفته مىشد: بياييد در راه خدا كارزار كنيد يا به دفاع پردازيد. مىگفتند: اگر يقين داشتيم كه جنگى درمىگيرد، با شما مىآمديم. آنان به كفر نزديكترند تا به ايمان. به زبان چيزهايى مىگويند كه به دل اعتقاد ندارند و خدا به آنچه در دل نهفته مىدارند آگاهتر است.
اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
نافقوا: منافق بنے، دل میں کفر چھپائے رکھا۔
ادفعوا: دفاع کرو، اپنی قوت اور تعداد سے دشمن کو روکو۔
یومئذ: اس دن (جنگ احد کے دن)۔
یکتمون: چھپاتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے جنگ احد کے موقع پر مسلمانوں کو آزمایا تاکہ اہل ایمان کے ثابت قدم رہنے اور منافقوں کے نفاق کا اظہار ہو جائے۔ جب منافقین (عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی) میدان جنگ سے الگ ہو گئے تو ان سے کہا گیا: "آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو، یا کم از کم اپنے وطن اور اہل و عیال کا دفاع ہی کرو۔" لیکن انہوں نے جواب دیا: "اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ جنگ واقعی ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ ہوتے۔" یہ ان کا محض بہانہ تھا، کیونکہ ان کے دلوں میں کفر تھا اور وہ جانتے تھے کہ جنگ ہونی ہے، لیکن ڈر اور بزدلی کی وجہ سے پیچھے رہ گئے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی حقیقت کھول دی کہ اس دن وہ ایمان کی نسبت کفر کے زیادہ قریب تھے، کیونکہ ان کی زبانوں پر وہ باتیں تھیں جو ان کے دلوں میں نہیں تھیں۔ وہ ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے تھے، لیکن دل میں کفر اور عداوت چھپائے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کے بھید خوب جانتا ہے اور وہی ان کے نفاق کا محاسبہ کرے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان کا دعویٰ زبان سے نہیں، بلکہ دل اور عمل سے ہوتا ہے۔ منافق وہ لوگ ہیں جو ظاہر میں مسلمان دکھائی دیتے ہیں، لیکن جب اللہ کے دین کی مدد کا وقت آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو صرف زبانی دعوے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنے اعمال سے ثابت کریں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے پیروکار ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چھپی ہوئی چیز کو جانتا ہے، اس لیے ہمیں اپنے دلوں کو نفاق اور ریاکاری سے پاک رکھنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال قربان کرتے ہیں، اللہ انہیں عزت دیتا ہے اور ان کے درجات بلند کرتا ہے۔
(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (اُحد کے دن کافر کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دوچند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے توتم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) بےشک خدا ہر چیز پر قادر ہے
اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور (جب) ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے رستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو۔ تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں۔ اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا ان سے خوب واقف ہے
یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ ہی رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا
سورہ آیت 167/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 165–169. اردو ترجمہ: فارسی.
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔