آل عمران · 175/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوۡلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ  ۝١٧٥
Innamaa zaalikumush Shaitaanu yukhawwifu awliyaaa`ahoo falaa takhaafoohum wa khaafooni in kuntum mu`mineen
📖 اردو ترجمہ
یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يُخَوِّفُ: ڈرانے والا بناتا ہے، خوف ڈالتا ہے۔
  • أَوْلِيَاءَهُ: اس کے دوست، اس کے مددگار اور پیروکار۔
  • فَلَا تَخَافُوهُمْ: پس تم ان سے خوف نہ کھاؤ۔
  • وَخَافُونِ: اور مجھ سے ڈرو۔

تفسیر:

اے ایمان والو! یہ بات خوب سمجھ لو کہ جو شخص تمہیں ڈرا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ "لوگوں نے تمہارے خلاف بڑی جمعیت اکٹھی کر لی ہے، ان سے ڈرو"، درحقیقت یہ ڈرانے والا شیطان ہے۔ شیطان اپنے دوستوں اور مددگاروں کے ذریعے تمہارے دلوں میں خوف پیدا کرتا ہے، تاکہ تم جہاد سے پیچھے ہٹ جاؤ اور اپنے دین کی حمایت نہ کر سکو۔ وہ تمہیں اپنے ولیوں (یعنی کافروں اور مشرکوں) سے ڈراتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس نہ کوئی طاقت ہے اور نہ ہی وہ اللہ کے مقابلے میں تمہیں کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

لہٰذا اے مومنو! تم ان سے ہرگز نہ ڈرو، کیونکہ وہ کمزور ہیں اور ان کا کوئی سہارا نہیں۔ بلکہ صرف مجھ سے ڈرو، میری اطاعت کرو اور میرے احکام پر چلو۔ اگر تم سچے مومن ہو تو تمہارے ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ تم اللہ کا خوف مخلوق کے خوف پر مقدم رکھو۔ ایمان کی پہچان یہی ہے کہ بندہ اللہ کی ذات سے ڈرے، اس کی نافرمانی سے بچے، اور اس کے وعدوں پر بھروسہ رکھے۔ جو شخص اللہ پر سچا ایمان رکھتا ہے، اس کے دل میں اللہ کی محبت اور خوف ایسا پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ کسی مخلوق کے ڈر سے متاثر نہیں ہوتا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت مومنین کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور طاقت کا پیغام ہے۔ شیطان کی ساری کوشش یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کے دلوں میں خوف پیدا کرے، لیکن اللہ تعالیٰ ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی طاقت صرف اللہ کے پاس ہے۔ جب تم اللہ پر بھروسہ کرو گے اور اس کی اطاعت کرو گے، تو تمہیں کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔ یاد رکھو، ایمان کی مضبوطی ہی وہ ڈھال ہے جو شیطان کے ہتھیاروں کو بے اثر کر دیتی ہے۔ اللہ سے ڈرو، اس کی رحمت پر بھروسہ کرو، اور اس کے دین کی خدمت کرو — یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 173-177 — آل عمران

173ٱلَّذِينَ قَالَ لَهُمُ ٱلنَّاسُ إِنَّ ٱلنَّاسَ قَدۡ جَمَعُواْ لَكُمۡ فَٱخۡشَوۡهُمۡ فَزَادَهُمۡ إِيمَٰنًا وَقَالُواْ حَسۡبُنَا ٱللَّهُ وَنِعۡمَ ٱلۡوَكِيلُ 
(جب) ان سے لوگوں نے آکر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو۔ تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا۔ اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے
174فَٱنقَلَبُواْ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَفَضۡلٍ لَّمۡ يَمۡسَسۡهُمۡ سُوٓءٌ وَٱتَّبَعُواْ رِضۡوَٰنَ ٱللَّهِۗ وَٱللَّهُ ذُو فَضۡلٍ عَظِيمٍ 
پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا۔ اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے۔ اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
175إِنَّمَا ذَٰلِكُمُ ٱلشَّيۡطَٰنُ يُخَوِّفُ أَوۡلِيَآءَهُۥ فَلَا تَخَافُوهُمۡ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ 
یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا
176وَلَا يَحۡزُنكَ ٱلَّذِينَ يُسَٰرِعُونَ فِي ٱلۡكُفۡرِۚ إِنَّهُمۡ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـًٔاۚ يُرِيدُ ٱللَّهُ أَلَّا يَجۡعَلَ لَهُمۡ حَظًّا فِي ٱلۡأٓخِرَةِۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيمٌ 
اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا۔ یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے
177إِنَّ ٱلَّذِينَ ٱشۡتَرَوُاْ ٱلۡكُفۡرَ بِٱلۡإِيمَٰنِ لَن يَضُرُّواْ ٱللَّهَ شَيۡـًٔاۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ أَلِيمٌ 
جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
175آیت

ترجمہ — آل عمران 175

سورہ آیت 175/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 173–177. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں