آل عمران · 39/200
ترجمہ تلفظ — آل عمران
فَنَادَتۡهُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌ يُصَلِّي فِي ٱلۡمِحۡرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيَىٰ مُصَدِّقَۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ  ۝٣٩
Fanaadat hul malaaa`ikatu wa huwa qaaa`imuny yusallee fil Mihraabi annal laaha yubashshiruka bi Yahyaa musaddiqam bi Kalimatim minal laahi wa saiyidanw wa hasooranw wa Nabiyyam minas saaliheen
📖 اردو ترجمہ
وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی (عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور (خدا کے) پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ

معانی الفاظ:

  • الْمِحْرَابِ: عبادت گاہ، مسجد کا وہ حصہ جہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔
  • مُصَدِّقًا: تصدیق کرنے والا، ایمان لانے والا۔
  • بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ: اللہ کی ایک کلمہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) جو اللہ کے حکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔
  • سَيِّدًا: سردار، قوم میں بلند مرتبہ والا۔
  • حَصُورًا: نفس پر قابو رکھنے والا، شہوات سے رکا رہنے والا، عورت سے قریب نہ ہونے والا۔

تفسیر:

یہ منظر بڑا ہی روح پرور ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام محراب میں کھڑے نماز ادا کر رہے ہیں، دل کی گہرائیوں سے اللہ سے دعا مانگ رہے ہیں کہ انہیں ایک نیک اولاد عطا فرما۔ اسی حالت میں اللہ کے فرشتے انہیں ندا دیتے ہیں کہ اے زکریا! اللہ تعالیٰ تمہیں خوشخبری دیتا ہے کہ تمہیں ایک بیٹا عطا ہوگا جس کا نام "یحيىٰ" ہوگا۔ یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اس کے ذریعے بانجھ رحم میں زندگی پیدا ہوئی۔

یہ بیٹا کئی خوبیوں کا حامل ہوگا:

  • وہ اللہ کی کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کرے گا، اور وہ پہلا شخص ہوگا جو ان پر ایمان لائے گا۔
  • وہ اپنی قوم کا سردار ہوگا، علم و عبادت میں بلند مقام رکھتا ہوگا۔
  • وہ "حصور" ہوگا یعنی اپنے نفس کو شہوات سے روکے گا، عفت و پاکیزگی کی اعلیٰ مثال ہوگا، اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کی عبادت کے لیے وقف کر دے گا۔
  • وہ نیک لوگوں میں سے نبی ہوگا، صالحین کی صف میں شامل ہوگا۔

اس خوشخبری میں بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کی دعاؤں کا ایسا نتیجہ عطا فرماتا ہے جو ان کی توقعات سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے تھے، ان کی بیوی بانجھ تھی، لیکن اللہ کی قدرت کے آگے یہ سب رکاوٹیں ہیچ ہیں۔ جب بندہ خلوص دل سے اللہ سے جڑ جاتا ہے، تو اللہ اسے ایسے انعامات سے نوازتا ہے جو عقل و خیال سے باہر ہوتے ہیں۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نماز اور عبادت کے دوران دل کی دعائیں اللہ کے حضور قبولیت کا خاص درجہ رکھتی ہیں۔ محراب میں کھڑے ہو کر اللہ سے مانگنے والا بندہ کبھی خالی نہیں لوٹتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ایسی اولاد عطا فرماتا ہے جو نہ صرف ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو بلکہ امت کے لیے رحمت اور ہدایت کا ذریعہ بنے۔

آج کے دور میں بھی ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو صالحین میں شامل فرمائے، اور ہمیں ایسی اولاد عطا کرے جو دین کی خدمت کرے، نفس پر قابو رکھے، اور اللہ کی رضا کے لیے جیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 37-41 — آل عمران

37فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّاۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيۡهَا زَكَرِيَّا ٱلۡمِحۡرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزۡقًاۖ قَالَ يَٰمَرۡيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَاۖ قَالَتۡ هُوَ مِنۡ عِندِ ٱللَّهِۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرۡزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيۡرِ حِسَابٍ 
تو پروردگار نے اس کو پسندیدگی کے ساتھ قبول فرمایا اور اسے اچھی طرح پرورش کیا اور زکریا کو اس کا متکفل بنایا زکریا جب کبھی عبادت گاہ میں اس کے پاس جاتے تو اس کے پاس کھانا پاتے (یہ کیفیت دیکھ کر ایک دن مریم سے) پوچھنے لگے کہ مریم یہ کھانا تمہارے پاس کہاں سے آتا ہے وہ بولیں خدا کے ہاں سے (آتا ہے) بیشک خدا جسے چاہتا ہے بے شمار رزق دیتا ہے
38هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِيَّا رَبَّهُۥۖ قَالَ رَبِّ هَبۡ لِي مِن لَّدُنكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةًۖ إِنَّكَ سَمِيعُ ٱلدُّعَآءِ 
اس وقت زکریا نے اپنے پروردگار سے دعا کی (اور) کہا کہ پروردگار مجھے اپنی جناب سے اولاد صالح عطا فرما تو بے شک دعا سننے (اور قبول کرنے) والا ہے
39فَنَادَتۡهُ ٱلۡمَلَٰٓئِكَةُ وَهُوَ قَآئِمٌ يُصَلِّي فِي ٱلۡمِحۡرَابِ أَنَّ ٱللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحۡيَىٰ مُصَدِّقَۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِّنَ ٱلصَّٰلِحِينَ 
وہ ابھی عبادت گاہ میں کھڑے نماز ہی پڑھ رہے تھے کہ فرشتوں نے آواز دی کہ (زکریا) خدا تمہیں یحییٰ کی بشارت دیتا ہے جو خدا کے فیض یعنی (عیسیٰ) کی تصدیق کریں گے اور سردار ہوں گے اور عورتوں سے رغبت نہ رکھنے والے اور (خدا کے) پیغمبر (یعنی) نیکو کاروں میں ہوں گے
40قَالَ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِي غُلَٰمٌ وَقَدۡ بَلَغَنِيَ ٱلۡكِبَرُ وَٱمۡرَأَتِي عَاقِرٌۖ قَالَ كَذَٰلِكَ ٱللَّهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ 
زکریا نے کہا اے پروردگار میرے ہاں لڑکا کیونکر پیدا ہوگا کہ میں تو بڈھا ہوگیا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے خدا نے فرمایا اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے
41قَالَ رَبِّ ٱجۡعَل لِّيٓ ءَايَةًۖ قَالَ ءَايَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ ٱلنَّاسَ ثَلَٰثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمۡزًاۗ وَٱذۡكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحۡ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِبۡكَٰرِ 
زکریا نے کہا کہ پروردگار (میرے لیے) کوئی نشانی مقرر فرما خدا نے فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کر سکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح و شام اس کی تسبیح کرنا
آل عمرانقرآن فہرست
200آیت
مدنیRevelation
39آیت

ترجمہ — آل عمران 39

سورہ آیت 39/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 37–41. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں