ترجمہ — Tafsir
فَنَادَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي الْمِحْرَابِ أَنَّ اللَّهَ يُبَشِّرُكَ بِيَحْيَىٰ مُصَدِّقًا بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَسَيِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ
معانی الفاظ:
- الْمِحْرَابِ: عبادت گاہ، مسجد کا وہ حصہ جہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔
- مُصَدِّقًا: تصدیق کرنے والا، ایمان لانے والا۔
- بِكَلِمَةٍ مِنَ اللَّهِ: اللہ کی ایک کلمہ (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) جو اللہ کے حکم سے بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔
- سَيِّدًا: سردار، قوم میں بلند مرتبہ والا۔
- حَصُورًا: نفس پر قابو رکھنے والا، شہوات سے رکا رہنے والا، عورت سے قریب نہ ہونے والا۔
تفسیر:
یہ منظر بڑا ہی روح پرور ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام محراب میں کھڑے نماز ادا کر رہے ہیں، دل کی گہرائیوں سے اللہ سے دعا مانگ رہے ہیں کہ انہیں ایک نیک اولاد عطا فرما۔ اسی حالت میں اللہ کے فرشتے انہیں ندا دیتے ہیں کہ اے زکریا! اللہ تعالیٰ تمہیں خوشخبری دیتا ہے کہ تمہیں ایک بیٹا عطا ہوگا جس کا نام "یحيىٰ" ہوگا۔ یہ نام اس لیے رکھا گیا کہ اس کے ذریعے بانجھ رحم میں زندگی پیدا ہوئی۔
یہ بیٹا کئی خوبیوں کا حامل ہوگا:
- وہ اللہ کی کلمہ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کرے گا، اور وہ پہلا شخص ہوگا جو ان پر ایمان لائے گا۔
- وہ اپنی قوم کا سردار ہوگا، علم و عبادت میں بلند مقام رکھتا ہوگا۔
- وہ "حصور" ہوگا یعنی اپنے نفس کو شہوات سے روکے گا، عفت و پاکیزگی کی اعلیٰ مثال ہوگا، اور اپنے آپ کو مکمل طور پر اللہ کی عبادت کے لیے وقف کر دے گا۔
- وہ نیک لوگوں میں سے نبی ہوگا، صالحین کی صف میں شامل ہوگا۔
اس خوشخبری میں بڑا سبق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان کی دعاؤں کا ایسا نتیجہ عطا فرماتا ہے جو ان کی توقعات سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے تھے، ان کی بیوی بانجھ تھی، لیکن اللہ کی قدرت کے آگے یہ سب رکاوٹیں ہیچ ہیں۔ جب بندہ خلوص دل سے اللہ سے جڑ جاتا ہے، تو اللہ اسے ایسے انعامات سے نوازتا ہے جو عقل و خیال سے باہر ہوتے ہیں۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نماز اور عبادت کے دوران دل کی دعائیں اللہ کے حضور قبولیت کا خاص درجہ رکھتی ہیں۔ محراب میں کھڑے ہو کر اللہ سے مانگنے والا بندہ کبھی خالی نہیں لوٹتا۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو ایسی اولاد عطا فرماتا ہے جو نہ صرف ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو بلکہ امت کے لیے رحمت اور ہدایت کا ذریعہ بنے۔
آج کے دور میں بھی ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اور ہماری نسلوں کو صالحین میں شامل فرمائے، اور ہمیں ایسی اولاد عطا کرے جو دین کی خدمت کرے، نفس پر قابو رکھے، اور اللہ کی رضا کے لیے جیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے۔
📜 آیت 37-41 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 39
سورہ آیت 39/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 37–41. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








