ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مُتَوَفِّیکَ: تمہیں (زمین سے) اٹھا لینے والا، قبض کرنے والا۔ بعض مفسرین کے نزدیک اس کا مطلب نیند کے ذریعے وفات دینا ہے، جیسا کہ دوسری آیت میں ہے "وَهُوَ الَّذِي يَتَوَفَّاكُم بِاللَّيْلِ" (الأنعام: 60)۔
- رَافِعُکَ: تمہیں اپنی طرف بلند کرنے والا۔
- مُطَهِّرُکَ: تمہیں پاک کرنے والا، نجات دینے والا۔
- اتَّبَعُوکَ: جنہوں نے تمہاری پیروی کی، یعنی آپ کے دینِ توحید پر چلنے والے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ایک عظیم بشارت دی اور ان کے دشمنوں کے مکر و فریب کا انجام بتایا۔ جب بنی اسرائیل نے آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اے عیسیٰ! میں تمہیں (زمین سے) اٹھا لوں گا، تمہیں اپنی طرف بلند کر لوں گا، اور تمہیں کافروں کی گندگی اور ان کے شر سے پاک کر دوں گا۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے آپ کو ان کے مکر سے بچا کر آسمان کی طرف اٹھا لیا، اور آپ کو شہادت یا ذلت سے محفوظ رکھا۔
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "اور میں ان لوگوں کو جو تمہاری پیروی کریں گے، کافروں پر غالب کروں گا۔" اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعوتِ توحید کو قبول کیا اور بعد میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے، کیونکہ آپ نے اپنی امت کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت دی تھی۔ یہ اہلِ اسلام ہیں جو قیامت تک کافروں پر غالب رہیں گے، چاہے وہ عیسائی ہوں یا کوئی اور گروہ۔ یہ غلبہ حجت اور برہان کے ذریعے بھی ہے اور عزت و قوت کے ذریعے بھی۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "پھر تم سب کی بازگشت میری طرف ہے، میں تمہارے درمیان ان چیزوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔" یعنی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے معاملے میں تمام اختلافات کا فیصلہ کرے گا، اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے، چاہے دشمن کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے معجزاتی طور پر بچایا، اور آج بھی اللہ اپنے مخلص بندوں کی مدد کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی سب سے بہتر حفاظت کرنے والا ہے۔ نیز یہ آیت اہلِ ایمان کے لیے بشارت ہے کہ حق باطل پر غالب آئے گا، اور آخرت میں ہر ظالم کو اس کے ظلم کا بدلہ ملے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے وعدوں پر یقین رکھیں، کیونکہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔
📜 آیت 53-57 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 55
سورہ آل عمران آیت 55 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اس وقت خدا نے فرمایا کہ عیسیٰ! میں تمہاری دنیا…سورہ آیت 55/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 53–57. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








