Ya`maloona lahoo ma yashaaa`u mim mahaareeba wa tamaaseela wa jifaanin kaljawaabi wa qudoorir raasiyaat; i`maloo aala Daawooda shukraa; wa qaleelum min `ibaadiyash shakoor
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
براى وى هر چه مىخواست از بناهاى بلند و تنديسها و كاسههايى چون حوض و ديگهاى محكم بر جاى، مىساختند. اى خاندان داود، براى سپاسگزارى كارى كنيد و اندكى از بندگان من سپاسگزارند.
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مَحَارِيبَ: عبادت گاہیں، مسجدیں۔
تَمَاثِيلَ: مورتیاں، تصویریں (جو اُس وقت کی شریعت میں جائز تھیں)۔
جِفَانٍ: بڑے بڑے پیالے، طشتریاں۔
كَالْجَوَابِ: بڑے حوض کی مانند (جن میں پانی جمع ہوتا ہے)۔
قُدُورٍ رَاسِيَاتٍ: ایسی دیگیں جو اپنی جگہ پر جمی ہوئی ہوں، اتنے بڑے کہ جنہیں حرکت نہ دی جا سکے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو عظیم سلطنت اور غیر معمولی قوتیں عطا فرمائی تھیں۔ جنات اُن کے حکم کے تابع تھے اور اُن کے لیے جو کچھ وہ چاہتے تھے، بناتے تھے۔ وہ اُن کے لیے عبادت گاہیں (مساجد) تعمیر کرتے تھے، مورتیں اور تصویریں بناتے تھے (جو اُس شریعت میں جائز تھیں)، بڑے بڑے پیالے جو حوض کی مانند تھے، اور ایسی دیگیں جو اپنی جگہ پر جمی ہوئی تھیں اور اپنے حجم کی وجہ سے جنہیں کوئی حرکت نہیں دے سکتا تھا۔
یہ سب کچھ اللہ کی نعمت اور قدرت کا مظہر تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آلِ داؤد سے فرمایا: "اے داؤد کی اولاد! شکر ادا کرو" یعنی اپنے رب کی اطاعت کرو، اُس کے احکام پر عمل کرو، اور اُس کی نعمتوں کے مقابلے میں اُس کی عبادت اور شکرگزاری کا حق ادا کرو۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ "میرے بندوں میں سے شکر گزار بہت کم ہیں" یعنی جو لوگ نعمت پا کر شکر ادا کرتے ہیں، اطاعت کرتے ہیں اور نعمت کو اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتے ہیں، وہ بہت تھوڑے ہیں۔ حضرت داؤد اور ان کی اولاد انہیں قلیل شکر گزار بندوں میں سے تھے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بڑی نعمتیں دیتا ہے، لیکن اصل کامیابی نعمت پانے میں نہیں بلکہ نعمت کا شکر ادا کرنے میں ہے۔ شکر کا مطلب صرف زبان سے "الحمدللہ" کہنا نہیں، بلکہ اللہ کی اطاعت کرنا، اُس کے احکام پر عمل کرنا، اور نعمتوں کو اُسی کی رضا کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر نعمت پر اللہ کا شکر ادا کریں، کیونکہ شکر کرنے والوں سے اللہ محبت کرتا ہے اور نعمتوں میں مزید اضافہ فرماتا ہے۔ یاد رکھیں، شکر گزار بندے اللہ کے نزدیک بہت ہی محبوب اور خاص ہوتے ہیں، اور یہی وہ لوگ ہیں جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوتے ہیں۔
اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّوں میں سے ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم کی) آگ کا مزہ چکھائیں گے
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے
(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔