سبا · 14/54
ترجمہ تلفظ — سبا
فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ ۝١٤
Falammaa qadainaa `alaihil mawta ma dallahum `alaa mawtiheee illaa daaabbatul ardi taakulu minsa atahoo falammaa kharra tabaiyanatil jinnu al law kaanoo ya`lamoonal ghaiba maa labisoo fil `azaabil muheen
📖 اردو ترجمہ
پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • مِنسَأَتَهُ: اس کا عصا (لاٹھی) جس پر سلیمان علیہ السلام ٹیک لگائے ہوئے تھے۔
  • دَابَّةُ الْأَرْضِ: زمین کا ایک کیڑا، جسے "رَضَّہ" یا "دِیدہِ چوبی" (woodworm) کہتے ہیں۔
  • خَرَّ: گر پڑا۔
  • تَبَيَّنَتِ الْجِنُ: جنوں نے واضح طور پر جان لیا۔
  • الْعَذَابِ الْمُهِينِ: ذلت والا عذاب، یعنی سخت مشقت اور ذلّت بھرا کام۔

تفسیر:

جب ہم نے سلیمان علیہ السلام پر موت کا فیصلہ نافذ کیا، تو انہیں وہیں ان کے تخت پر کھڑا چھوڑ دیا گیا، اور وہ اپنے عصا پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی موت کو جنوں سے مخفی رکھا، تاکہ ان کا امتحان ہو۔ جنوں کو ان کی موت کی خبر دینے والا کوئی نہ تھا، سوائے اس چھوٹے سے کیڑے (ارضہ) کے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ یہاں تک کہ عصا کھوکھلا ہو گیا اور ٹوٹ گیا، تو سلیمان علیہ السلام زمین پر گر پڑے۔ اس وقت جنوں پر حقیقت واضح ہوئی کہ وہ غیب کا علم نہیں رکھتے۔ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو سلیمان علیہ السلام کی موت کا علم ہو جاتا اور وہ اس ذلت والے عذاب (محنت مزدوری اور سخت کاموں) میں مبتلا نہ رہتے، جو وہ سلیمان علیہ السلام کی زندگی میں کرتے رہے۔

دعوتی پہلو:

یہ واقعہ ہمیں ایک عظیم سبق سکھاتا ہے کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے، اور کوئی مخلوق، خواہ وہ جن ہوں یا انسان، اس کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ جنوں کے بارے میں لوگوں میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں، کہ وہ مستقبل جانتے ہیں یا انہیں غیب کا علم حاصل ہے۔ یہ آیت اس عقیدے کی مکمل تردید کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو خالص کریں اور صرف اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ کی قدرت کے آگے سب کچھ عاجز ہے، حتیٰ کہ ایک عظیم نبی کی موت کو بھی ایک چھوٹے سے کیڑے کے ذریعے ظاہر کیا گیا، تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور اللہ کی حکمت پر غور کریں۔ جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی کتاب پر عمل کرتا ہے، وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتا ہے، اور جو غیب کا دعویٰ کرنے والوں کی باتوں پر یقین کرتا ہے، وہ گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔



📜 آیت 12-16 — سبا

12وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَن يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَن يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ
اور ہوا کو (ہم نے) سلیمان کا تابع کردیا تھا اس کی صبح کی منزل ایک مہینے کی راہ ہوتی اور شام کی منزل بھی مہینے بھر کی ہوتی۔ اور ان کے لئے ہم نے تانبے کا چشمہ بہا دیا تھا اور جِنّوں میں سے ایسے تھے جو ان کے پروردگار کے حکم سے ان کے آگے کام کرتے تھے۔ اور جو کوئی ان میں سے ہمارے حکم سے پھرے گا اس کو ہم (جہنم کی) آگ کا مزہ چکھائیں گے
13يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِن مَّحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَّاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ
وہ جو چاہتے یہ ان کے لئے بناتے یعنی قلعے اور مجسمے اور (بڑے بڑے) لگن جیسے تالاب اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی رہیں۔ اے داؤد کی اولاد (میرا) شکر کرو اور میرے بندوں میں شکرگزار تھوڑے ہیں
14فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَن لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم صادر کیا تو کسی چیز سے ان کا مرنا معلوم نہ ہوا مگر گھن کے کیڑے سے جو ان کے عصا کو کھاتا رہا۔ جب عصا گر پڑا تب جنوں کو معلوم ہوا (اور کہنے لگے) کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو ذلت کی تکلیف میں نہ رہتے
15لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَن يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِن رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ
(اہل) سبا کے لئے ان کے مقام بودوباش میں ایک نشانی تھی (یعنی) دو باغ (ایک) داہنی طرف اور (ایک) بائیں طرف۔ اپنے پروردگار کا رزق کھاؤ اور اس کا شکر کرو۔ (یہاں تمہارے رہنے کو یہ) پاکیزہ شہر ہے اور (وہاں بخشنے کو) خدائے غفار
16فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُم بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِّن سِدْرٍ قَلِيلٍ
تو انہوں نے (شکرگزاری سے) منہ پھیر لیا پس ہم نے ان پر زور کا سیلاب چھوڑ دیا اور انہیں ان کے باغوں کے بدلے دو ایسے باغ دیئے جن کے میوے بدمزہ تھے اور جن میں کچھ تو جھاؤ تھا اور تھوڑی سی بیریاں
سباقرآن فہرست
54آیت
مکیRevelation
14آیت

ترجمہ — سبا 14

سورہ سبا آیت 14 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر جب ہم نے ان کے لئے موت کا حکم…

سورہ آیت 14/54 — سبا سبأ (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سبا سنیں, سبا ترجمہ, سبا mp3, سبا pdf. آیت 12–16. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Wednesday, August 19, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں