فاطر · 43/45
ترجمہ تلفظ — فاطر
اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا ۝٤٣
Istakbaaran fil ardi wa makras sayyi`; wa laa yaheequl makrus sayyi`u illaa bi ahlih; fahal yanzuroona illaa sunnatal awwaleen; falan tajida lisunnatil laahi tabdeelanw wa lan tajida lisunnatil laahi tahweela
📖 اردو ترجمہ
یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں۔ سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

﴿اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ﴾

معانی الفاظ:

  • اسْتِكْبَارًا: تکبر کرنا، بڑائی حاصل کرنا۔
  • مَكْرَ السَّيِّئِ: بری چال، بُری تدبیر، دھوکہ اور فریب۔
  • يَحِيقُ: گھیر لیتا ہے، اپنے دامن میں لے لیتا ہے۔
  • سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ: پہلے لوگوں کے ساتھ اللہ کا طریقہ، یعنی عذاب کا نزول۔
  • تَبْدِيلًا: بدلنا، تبدیل کرنا۔
  • تَحْوِيلًا: پھیر دینا، کسی اور کی طرف موڑ دینا۔

تفسیر:

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے بڑے بڑے قسمیں کھائیں کہ اگر کوئی رسول آئے گا تو ہم سب سے بڑھ کر اس کی پیروی کریں گے۔ لیکن جب اللہ کا رسول ان کے پاس آیا تو انہوں نے اسے قبول نہ کیا۔ ان کی یہ قسمیں کسی نیک نیتی اور سچی خواہش پر مبنی نہ تھیں، بلکہ ان کا مقصد صرف زمین میں تکبر کرنا اور لوگوں کو دھوکہ دینا تھا۔ وہ حق کو دبانا چاہتے تھے اور اپنی بُری چالوں سے لوگوں کو راہِ راست سے بھٹکانا چاہتے تھے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ بُری چالیں اور مکروفریب اپنے ہی کرنے والوں کو گھیر لیتا ہے۔ جو شخص دوسروں کے ساتھ برائی کرتا ہے، اس کا وبال آخرکار اسی پر پڑتا ہے۔ یہ اللہ کا اٹل قانون ہے کہ ظلم کا انجام ظالم کے لیے ہی تباہی بنتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ سوالیہ انداز میں فرماتا ہے کہ کیا یہ لوگ اس کے سوا کسی اور چیز کا انتظار کر رہے ہیں کہ ان پر وہی عذاب نازل ہو جو پہلے قوموں پر نازل ہوا تھا؟ جو لوگ اپنے انبیاء کو جھٹلاتے تھے اور زمین میں فساد پھیلاتے تھے، انہیں کیسے تباہ کیا گیا؟ یہی سنتِ الٰہی ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔

اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی اور نہ ہی اسے کوئی دوسری طرف موڑا جا سکتا ہے۔ جو قوم حق کو جھٹلاتی ہے اور تکبر کرتی ہے، اس کا انجام تباہی ہی ہے۔ یہ قانونِ الٰہی اٹل ہے، اس میں کوئی ردو بدل ممکن نہیں۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں تکبر اور مکر سے بچنا چاہیے۔ تکبر وہ صفت ہے جو انسان کو حق قبول کرنے سے روکتی ہے اور اسے ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم عاجزی اور انکساری کے ساتھ حق کو قبول کریں، کیونکہ اللہ کے نزدیک سب سے محبوب عمل حق کو تسلیم کرنا ہے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ بری چالیں اور فریب کرنے والے کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔ چاہے وہ دنیا میں کچھ دیر کامیاب نظر آئیں، لیکن آخرت میں ان کا انجام برا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں سچائی اور دیانت داری کو اپنائیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

اللہ کی سنت پر بھروسہ رکھیں، وہ کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ جو لوگ نیکی اور حق پر قائم رہتے ہیں، اللہ انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ اور جو لوگ ظلم اور باطل پر اصرار کرتے ہیں، ان کا انجام تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو اللہ کی مرضی کے مطابق ڈھالیں اور اس کی سنت پر چلیں، تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہو سکیں۔



📜 آیت 41-45 — فاطر

41۞ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے
42وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا
اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی
43اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا
یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں۔ سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے
44أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا
کیا انہوں نے زمین میں کبھی سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا حالانکہ وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے۔ اور خدا ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس کو عاجز کرسکے۔ وہ علم والا (اور) قدرت والا ہے
45وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا
اور اگر خدا لوگوں کو ان کے اعمال کے سبب پکڑنے لگتا۔ تو روئے زمین پر ایک چلنے پھرنے والے کو نہ چھوڑتا۔ لیکن وہ ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ سو جب ان کا وقت آجائے گا تو (ان کے اعمال کا بدلہ دے گا) خدا تو اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے
فاطرقرآن فہرست
45آیت
مکیRevelation
43آیت

ترجمہ — فاطر 43

سورہ فاطر آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال…

سورہ آیت 43/45 — فاطر فاطر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فاطر سنیں, فاطر ترجمہ, فاطر mp3, فاطر pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں