فاطر · 42/45
ترجمہ تلفظ — فاطر
وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا ۝٤٢
Wa aqsamoo billaahi jahda aymaanihim la`in jaaa`ahum nazeerul layakoonunna ahdaa min ihdal umami falam maa jaaa`ahum nazeerum maa zaadahum illaa nufooraa
📖 اردو ترجمہ
اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ: اپنی قسمیں پوری کوشش اور سختی کے ساتھ کھائیں۔
  • نَذِيرٌ: ڈرانے والا، رسول یا نبی۔
  • أَهْدَى: زیادہ ہدایت یافتہ، سیدھی راہ پر زیادہ چلنے والا۔
  • نُفُورًا: نفرت، بھاگنا، حق سے دور بھاگنا۔

تفسیر:

یہ آیت مکہ کے کافروں کے اس دعوے اور قسم کا ذکر کر رہی ہے جو انہوں نے اللہ کے نام پر کیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا (نبی) آئے گا تو ہم یہود و نصاریٰ اور دوسری پچھلی امتوں سے بھی زیادہ ہدایت یافتہ اور راہِ راست پر چلنے والے ہوں گے۔ انہوں نے یہ قسم انتہائی تاکید اور سختی کے ساتھ کھائی تھی، گویا وہ اپنے اس دعوے پر پورا یقین رکھتے تھے۔

لیکن جب اللہ تعالیٰ نے ان کی اس آزمائش کے لیے اپنا آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پاس بھیجا، جو انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرانے اور سیدھی راہ دکھانے کے لیے آئے، تو ان کا حال یہ ہوا کہ اس نبی کے آنے نے ان کی ہدایت میں کوئی اضافہ نہیں کیا، بلکہ ان کی نفرت، حق سے دوری اور بغاوت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ وہ حق کے قریب آنے کی بجائے اس سے اور زیادہ بھاگنے لگے۔

یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ انہوں نے اپنے دعوے اور قسم کو جھوٹا ثابت کیا۔ وہ پہلے کہتے تھے کہ ہم سب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوں گے، لیکن جب حقیقت میں ہدایت کا راستہ ان کے سامنے آیا تو انہوں نے اسے قبول کرنے کی بجائے اس سے نفرت کی اور پیٹھ پھیر لی۔ یہ ان کے دلوں کی سختی اور ہٹ دھرمی کا نتیجہ تھا۔

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ محض زبانی دعوے اور قسمیں کسی کو ہدایت نہیں دیتیں۔ اصل چیز دل کی پاکیزگی، سچائی کی طلب اور اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ اگر دل میں غرور، ہٹ دھرمی اور حق سے نفرت ہو تو اللہ کا رسول بھی آ جائے تو وہ ہدایت نہیں پاتے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے دعوؤں کو اپنے اعمال سے ثابت کریں، اور جب حق ہمارے سامنے آئے تو اسے کھلے دل سے قبول کریں، نہ کہ اس سے نفرت کریں۔ ہماری نجات اسی میں ہے کہ ہم اپنے ایمان کو صرف زبانی نہ رکھیں بلکہ اسے اپنے دلوں اور اعمال میں اتاریں، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کو اپنی زندگی کا حقیقی راستہ بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب کر سکتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 40-44 — فاطر

40قُلْ أَرَأَيْتُمْ شُرَكَاءَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا فَهُمْ عَلَىٰ بَيِّنَتٍ مِّنْهُ ۚ بَلْ إِن يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُم بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا
بھلا تم نے اپنے شریکوں کو دیکھا جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو۔ مجھے دکھاؤ کہ انہوں نے زمین سے کون سی چیز پیدا کی ہے یا (بتاؤ کہ) آسمانوں میں ان کی شرکت ہے۔ یا ہم نے ان کو کتاب دی ہے تو وہ اس کی سند رکھتے ہیں (ان میں سے کوئی بات بھی نہیں) بلکہ ظالم جو ایک دوسرے کو وعدہ دیتے ہیں محض فریب ہے
41۞ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَن تَزُولَا ۚ وَلَئِن زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِّن بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
خدا ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے رکھتا ہے کہ ٹل نہ جائیں۔ اگر وہ ٹل جائیں تو خدا کے سوا کوئی ایسا نہیں جو ان کو تھام سکے۔ بےشک وہ بردبار (اور) بخشنے والا ہے
42وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِن جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَّيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَّا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا
اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی ہدایت کرنے والا آئے تو ہر ایک اُمت سے بڑھ کر ہدایت پر ہوں۔ مگر جب ان کے پاس ہدایت کرنے والا آیا تو اس سے ان کو نفرت ہی بڑھی
43اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا
یعنی (انہوں نے) ملک میں غرور کرنا اور بری چال چلنا (اختیار کیا) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر پڑتا ہے۔ یہ اگلے لوگوں کی روش کے سوا اور کسی چیز کے منتظر نہیں۔ سو تم خدا کی عادت میں ہرگز تبدل نہ پاؤ گے۔ اور خدا کے طریقے میں کبھی تغیر نہ دیکھو گے
44أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِن شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا
کیا انہوں نے زمین میں کبھی سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے کہ جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیا ہوا حالانکہ وہ ان سے قوت میں بہت زیادہ تھے۔ اور خدا ایسا نہیں کہ آسمانوں اور زمین میں کوئی چیز اس کو عاجز کرسکے۔ وہ علم والا (اور) قدرت والا ہے
فاطرقرآن فہرست
45آیت
مکیRevelation
42آیت

ترجمہ — فاطر 42

سورہ فاطر آیت 42 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یہ خدا کی سخت سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ…

سورہ آیت 42/45 — فاطر فاطر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فاطر سنیں, فاطر ترجمہ, فاطر mp3, فاطر pdf. آیت 40–44. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں