ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- حَسْرَةً: ندامت، افسوس، پچھتاوا۔
- الْعِبَادِ: بندے، مراد یہاں وہ لوگ ہیں جنہوں نے رسولوں کو جھٹلایا۔
- يَسْتَهْزِئُونَ: مذاق اڑاتے ہیں، ٹھٹھا کرتے ہیں۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر افسوس اور حسرت کا اظہار فرما رہے ہیں جنہوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا اور ان کا مذاق اڑایا۔ یہ حسرت قیامت کے دن ان کے لیے ہوگی جب وہ اپنے انجام کو دیکھیں گے اور سمجھ جائیں گے کہ انہوں نے کتنی بڑی غلطی کی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب بھی کوئی رسول ان کے پاس آیا، انہوں نے اسے جھٹلایا اور اس کا مذاق اڑایا۔ یہ ان کی سرکشی اور ہٹ دھرمی کا حال تھا۔
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ رسولوں کا انکار اور ان کا مذاق اڑانا قوموں کی ہلاکت کا سبب بنا۔ قریش مکہ بھی اسی روش پر تھے، وہ نبی کریم ﷺ کا مذاق اڑاتے تھے، لیکن انجام کار انہیں پچھتانا پڑا۔ یہ حسرت صرف قیامت تک محدود نہیں، بلکہ جب بھی کوئی قوم اپنے نبی کو جھٹلاتی ہے، اسے دنیا میں بھی پچھتانا پڑتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے رسولوں اور ان کی تعلیمات کا احترام کریں، ان پر ایمان لائیں اور ان کی اتباع کریں۔ آج بھی جو لوگ قرآن اور سنت کا مذاق اڑاتے ہیں، وہ اسی حسرت کا شکار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت کی توفیق دے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو رسولوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو درست کریں اور اللہ کے دین کی خدمت کریں تاکہ قیامت کے دن ہمیں حسرت اور ندامت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلائے اور ہمیں اپنے محبوب رسول ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 28-32 — یس
ترجمہ — یس 30
سورہ یس آیت 30 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بندوں پر افسوس ہے کہ ان کے پاس کوئی پیغمبر…سورہ آیت 30/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 28–32. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








