ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَيْحَةً: ایک زوردار آواز، چیخ، یا آسمانی عذاب کا شور۔
- خَامِدُونَ: بجھ جانے والے، مردہ، بالکل ساکن اور بےجان۔ (یہ لفظ اس آگ کے لیے استعمال ہوتا ہے جو بجھ جائے اور اس کا کوئی اثر باقی نہ رہے)
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا ایک عظیم نمونہ بیان فرمایا ہے کہ جب رسولوں کی دعوت کو جھٹلایا گیا اور قومِ یٰسین نے اپنے نبی کی بات نہ مانی، تو ان کی ہلاکت کا ذریعہ کوئی پیچیدہ جنگ یا طویل عذاب نہیں تھا، بلکہ صرف ایک ہی زوردار آواز (صیحہ) تھی جو اللہ کے حکم سے بلند ہوئی۔ بس اس ایک آواز نے انہیں اس طرح نیست و نابود کر دیا کہ وہ سب کے سب مردہ ہو کر رہ گئے، جیسے آگ بجھ جانے کے بعد راکھ ٹھنڈی پڑ جاتی ہے اور اس میں سے کوئی شعلہ یا حرارت باقی نہیں رہتی۔
یہ اللہ کی سنت ہے کہ جب وہ کسی قوم کو ہلاک کرنے کا فیصلہ فرما لیتا ہے، تو اس کے لیے کوئی بڑی طاقت یا لمبی مدت درکار نہیں ہوتی۔ ایک اشارہ، ایک آواز، ایک لمحہ — بس اللہ کا حکم جاری ہوتا ہے اور سب کچھ ختم۔ یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور اس کے عذاب سے بچنے کی کوئی طاقت نہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے رسولوں کی تکذیب کا انجام کتنا خطرناک ہوتا ہے۔ جو قومیں اپنے پیغمبروں کو جھٹلاتی ہیں، ان کے پاس مہلت ضرور ہوتی ہے، لیکن جب اللہ کا عذاب آتا ہے تو وہ یکدم آتا ہے اور کسی کو مہلت نہیں دیتا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے دین کی طرف لوٹ آئیں، اپنے نبی ﷺ کی سنت کو مضبوطی سے تھامیں، اور اس بات پر یقین رکھیں کہ اللہ کی گرفت بہت سخت ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ اللہ رحم کرنے والا ہے — وہ توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے اور اپنے بندوں پر مہربانی فرماتا ہے۔ آئیے ہم اس آیت سے عبرت حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکم کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم اس عذاب سے محفوظ رہیں جو نافرمانوں کے لیے تیار ہے۔
📜 آیت 27-31 — یس
ترجمہ — یس 29
سورہ آیت 29/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 27–31. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








