یس · 38/83
ترجمہ تلفظ — یس
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ۝٣٨
Wash-shamsu tajree limustaqarril lahaa; zaalika taqdeerul `Azeezil Aleem
📖 اردو ترجمہ
اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَجْرِي: چلتی ہے، سفر کرتی ہے۔
  • لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا: اپنی مقررہ منزل یا وقت کی طرف۔
  • تَقْدِيرُ: اندازہ، منصوبہ، پیمانہ۔
  • الْعَزِيزِ: غالب، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے۔
  • الْعَلِيمِ: جاننے والا، جس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہ ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنی قدرت اور حکمت کی ایک عظیم نشانی بیان فرما رہا ہے۔ وہ سورج، جو دن کی روشنی اور حرارت کا سرچشمہ ہے، اپنے مقررہ راستے پر مسلسل سفر کر رہا ہے۔ یہ سفر بے مقصد نہیں، بلکہ ایک مقررہ منزل اور معین وقت کی طرف ہے، جسے اللہ نے اپنے علمِ کامل سے طے کر رکھا ہے۔ سورج نہ اپنے راستے سے ذرا بھی ہٹتا ہے، نہ اپنی رفتار میں کمی بیشی کرتا ہے، اور نہ ہی اپنی مقررہ مدت سے پہلے یا بعد میں اپنی منزل کو پہنچتا ہے۔ یہی نظامِ کائنات اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس کا خالق اور منتظم ایک ہی ہے، جو انتہائی غالب ہے، اس کے حکم کے آگے کوئی طاقت نہیں چل سکتی۔ وہ بےحد علم والا ہے، اس کے علم سے کوئی ذرہ، کوئی حرکت، کوئی راز پوشیدہ نہیں۔ یہ سب کچھ اس کی تقدیر اور اس کے مقرر کردہ نظام کا نتیجہ ہے، جو حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا آنکھیں کھول کر آسمان کی طرف دیکھیں، اس سورج کو دیکھیں جو ہر صبح طلوع ہوتا ہے اور ہر شام غروب ہو جاتا ہے۔ یہ کروڑوں سالوں سے اپنے کام پر قائم ہے، کبھی نہیں تھکتا، کبھی نہیں بھٹکتا۔ کیا یہ خود بخود چل رہا ہے؟ کیا اس نے خود اپنا راستہ خود بنایا؟ ہرگز نہیں! یہ اس ذات کا کمال ہے جس نے ہر چیز کو ایک اندازے پر بنایا ہے۔ جب ہم اپنے گھر کی گھڑی کو دیکھتے ہیں جو وقت پر چلتی ہے، تو ہم کہتے ہیں کہ اسے کسی ماہر نے بنایا ہے۔ تو پھر یہ سورج، یہ چاند، یہ ستارے، یہ پوری کائنات جو اتنی منظم ہے، کیا اسے کسی خالق کی ضرورت نہیں؟ یقیناً ہے! یہی تو ہمارے رب کی نشانیاں ہیں جو ہمیں اپنی طرف بلاتی ہیں۔ اس نظام کو دیکھ کر ہمیں اپنے رب کی محبت، اس کی عظمت اور اس کے علم کی وسعت کا احساس ہونا چاہیے، اور ہمیں اپنی زندگی کو اسی رب کے بتائے ہوئے راستے پر چلانا چاہیے، جیسے سورج اپنے مقررہ راستے پر چلتا ہے۔ اگر سورج اپنے راستے سے ہٹ جائے تو پوری کائنات تباہ ہو جائے، تو کیا ہم اپنے خالق کے حکم سے بغاوت کر کے اپنی زندگیوں کو تباہی کی طرف نہیں دھکیل رہے؟ آئیے، ہم اپنے رب کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کریں، کیونکہ وہی غالب ہے، وہی علم والا ہے، اور اسی کی اطاعت میں ہی ہماری کامیابی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 36-40 — یس

36سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ
وہ خدا پاک ہے جس نے زمین کی نباتات کے اور خود ان کے اور جن چیزوں کی ان کو خبر نہیں سب کے جوڑے بنائے
37وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ
اور ایک نشانی ان کے لئے رات ہے کہ اس میں سے ہم دن کو کھینچ لیتے ہیں تو اس وقت ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے
38وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ۚ ذَٰلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ
اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ (خدائے) غالب اور دانا کا (مقرر کیا ہوا) اندازہ ہے
39وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتَّىٰ عَادَ كَالْعُرْجُونِ الْقَدِيمِ
اور چاند کی بھی ہم نے منزلیں مقرر کردیں یہاں تک کہ (گھٹتے گھٹتے) کھجور کی پرانی شاخ کی طرح ہو جاتا ہے
40لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ
نہ تو سورج ہی سے ہوسکتا ہے کہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات ہی دن سے پہلے آسکتی ہے۔ اور سب اپنے اپنے دائرے میں تیر رہے ہیں
یسقرآن فہرست
83آیت
مکیRevelation
38آیت

ترجمہ — یس 38

سورہ یس آیت 38 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور سورج اپنے مقرر رستے پر چلتا رہتا ہے۔ یہ…

سورہ آیت 38/83 — یس يس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یس سنیں, یس ترجمہ, یس mp3, یس pdf. آیت 36–40. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں