ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ: یعنی وہ عمر کو پہنچ گیا جب وہ اپنے والد کے ساتھ کام کاج اور مشقت میں شریک ہو سکتا تھا۔
- أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ: خواب میں دیکھتا ہوں (اور انبیاء علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا ہے)۔
- أَذْبَحُكَ: تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔
- فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ: سو تم خود غور کرو اور اپنی رائے دو۔
- مَا تُؤْمَرُ: جو حکم دیا جا رہا ہے۔
- مِنَ الصَّابِرِينَ: صبر کرنے والوں میں سے۔
تفسیر:
جب حضرت اسماعیل علیہ السلام جوان ہوئے اور اپنے والد بزرگوار حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلنے پھرنے اور ان کے کاموں میں مدد کرنے کے قابل ہو گئے، تو ایک دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں۔ یہ کوئی عام خواب نہ تھا، بلکہ انبیاء کرام علیہم السلام کے خواب بھی وحی الٰہی ہوتے ہیں، اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کا حکم تھا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے کہا: "اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھ رہا ہوں کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، اب تم بتاؤ کہ تمہاری کیا رائے ہے؟" یہ کوئی امتحان نہیں تھا کہ وہ بیٹے کی رائے پر عمل کرتے، بلکہ وہ یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ ان کا بیٹا کس قدر فرمانبردار اور صابر ہے۔
اس پر حضرت اسماعیل علیہ السلام نے جو جواب دیا وہ ایمان، اطاعت اور صبر کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا: "اے میرے والد! جو حکم آپ کو دیا گیا ہے اسے بجالائیے، آپ مجھے ان شاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔" انہوں نے نہ کوئی عذر پیش کیا، نہ کوئی اعتراض کیا، بلکہ پورے اطمینان اور رضا کے ساتھ اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کر دیا۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ کی رضا پر اپنی جان اور اپنے عزیزوں کی محبت کو قربان کرنا ہی اصل ایمان ہے۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کا یہ مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنے خلیل (دوست) کا بیٹا ہونے کے ساتھ ساتھ صبر اور قربانی کا عظیم نمونہ بنایا۔ آج ہم جب بھی اللہ کی راہ میں کوئی قربانی دیں، چاہے وہ مال ہو، وقت ہو یا اپنی خواہشات، تو ہمیں حضرت اسماعیل علیہ السلام کے اس جذبے کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو اللہ کا حکم ہے، اس پر بلا چون و چرا عمل کرنا چاہیے، اور یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ ہمیں صبر کی توفیق دے گا۔
یہ واقعہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزماتا ہے، لیکن جو صبر کرتے ہیں، انہیں کبھی ناکام نہیں چھوڑتا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو فدیہ دے کر بچا لیا اور ان کی قربانی کو قبول فرمایا۔
📜 آیت 100-104 — صافات
ترجمہ — صافات 102
سورہ صافات آیت 102 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب وہ ان کے ساتھ دوڑنے (کی عمر) کو پہنچا…سورہ آیت 102/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 100–104. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








