ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَشَّرْنَا: ہم نے خوشخبری دی۔
- غُلَامٍ: لڑکا، بیٹا۔
- حَلِیمٍ: بردبار، تحمل والا، جو غصے میں نہ آتا ہو اور صبر و ہمت رکھتا ہو۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر فرما رہے ہیں، جو انہوں نے بڑھاپے میں اولاد کے لیے کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ایک ایسے بیٹے کی خوشخبری دی جو بردبار اور حلیم ہوگا۔ یہ بیٹا حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے، جو اپنے صبر، تحمل اور اطاعتِ الٰہی کے لیے مشہور ہوئے۔
یہ خوشخبری اس لیے بھی بہت اہم تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اس وقت بوڑھے ہو چکے تھے، اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسا بیٹا عطا کیا جو نہ صرف ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنا بلکہ اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنے والا بھی ثابت ہوا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی حلم اور بردباری کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ یہ ان کی عظیم صفت تھی، اور یہی صفت انہیں اللہ کے قرب اور امتحانات میں کامیابی کا ذریعہ بنی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے، چاہے حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بڑھاپے میں دعا کی، اور اللہ نے انہیں بیٹا عطا کیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ اللہ سے امید رکھیں اور اپنی دعاؤں میں اصرار کریں۔ نیز، حلم اور بردباری ایک عظیم صفت ہے جو ہر مسلمان کو اپنانا چاہیے، کیونکہ یہی صفت انسان کو اللہ کے نزدیک محبوب بناتی ہے اور معاشرے میں عزت و احترام کا ذریعہ بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی حلم اور صبر عطا فرمائے اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 99-103 — صافات
ترجمہ — صافات 101
سورہ صافات آیت 101 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ہم نے ان کو ایک نرم دل لڑکے کی…سورہ آیت 101/182 — صافات الصافات (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: صافات سنیں, صافات ترجمہ, صافات mp3, صافات pdf. آیت 99–103. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








