ص · 34/88
ترجمہ تلفظ — ص
وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ ۝٣٤
Wa laqad fatannaa Sulaimaana wa alqainaa `alaa kursiyyihee jasadan summa anaab
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَتَنَّا: ہم نے آزمائش میں ڈالا۔
  • کُرْسِیِّہِ: اس کے تخت یا مسند پر۔
  • جَسَدًا: ایک جسم (بے جان یا ناقص الخلقت بچہ
  • ثُمَّ أَنَابَ: پھر وہ (اللہ کی طرف) رجوع کیا اور توبہ کی۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت سلیمان علیہ السلام کی ایک اہم آزمائش سے آگاہ فرما رہے ہیں۔ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے قسم کھائی کہ وہ اپنی بیویوں کے پاس جائیں گے تاکہ ان سے ایسے اولاد پیدا ہوں جو اللہ کے راستے میں جہاد کریں۔ لیکن انہوں نے یہ نہیں کہا کہ "إن شاء اللہ" (اگر اللہ نے چاہا)۔ نبی کریم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: "سلیمان علیہ السلام نے کہا: میں آج رات اپنی سو بیویوں کے پاس جاؤں گا (یا ننانوے کا ذکر ہے)، ہر ایک سے ایک ایسا بچہ پیدا ہوگا جو اللہ کے راستے میں جہاد کرے گا۔ ان کے ساتھی نے کہا: آپ 'إن شاء اللہ' کیوں نہیں کہتے؟ لیکن انہوں نے نہ کہا۔ چنانچہ صرف ایک بیوی حاملہ ہوئی اور اس نے ایک ادھورا بچہ جنم دیا۔" رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر انہوں نے 'إن شاء اللہ' کہہ دیا ہوتا تو وہ سب اللہ کے راستے میں جہاد کرتے۔"

یہی وہ "جسد" (ناقص جسم) تھا جو ان کے تخت پر ڈالا گیا، اور یہ ان کی آزمائش تھی۔ اس واقعے سے حضرت سلیمان علیہ السلام کو بہت رنج ہوا، لیکن انہوں نے فوراً اپنے رب کی طرف رجوع کیا، توبہ کی، اور اللہ سے دعا کی کہ انہیں ایسی سلطنت عطا فرمائے جو ان کے بعد کسی کو حاصل نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ہوا پر قابو دیا، جو ان کے حکم سے چلتی تھی۔

دعوتی پہلو:

اس واقعے سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہر معاملے میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اپنے ارادوں کو اللہ کی مشیت کے ساتھ جوڑیں۔ "إن شاء اللہ" کہنا محض ایک رسم نہیں، بلکہ یہ توکل اور عاجزی کا اظہار ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے عظیم نبی بھی جب اس سے غافل ہوئے تو انہیں آزمائش کا سامنا کرنا پڑا، تو ہم کیسے سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اس سے مستثنیٰ ہیں؟ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ گناہ یا کوتاہی کے بعد فوراً اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے نبیوں کی سنت پر چلنے اور ہر کام میں "إن شاء اللہ" کہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 32-36 — ص

32فَقَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَيْرِ عَن ذِكْرِ رَبِّي حَتَّىٰ تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ
تو کہنے لگے کہ میں نے اپنے پروردگار کی یاد سے (غافل ہو کر) مال کی محبت اختیار کی۔ یہاں تک کہ (آفتاب) پردے میں چھپ گیا
33رُدُّوهَا عَلَيَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًا بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ
(بولے کہ) ان کو میرے پاس واپس لے آؤ۔ پھر ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگے
34وَلَقَدْ فَتَنَّا سُلَيْمَانَ وَأَلْقَيْنَا عَلَىٰ كُرْسِيِّهِ جَسَدًا ثُمَّ أَنَابَ
اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے تخت پر ایک دھڑ ڈال دیا پھر انہوں نے (خدا کی طرف) رجوع کیا
35قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ
(اور) دعا کی کہ اے پروردگار مجھے مغفرت کر اور مجھ کو ایسی بادشاہی عطا کر کہ میرے بعد کسی کو شایاں نہ ہو۔ بےشک تو بڑا عطا فرمانے والا ہے
36فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّيحَ تَجْرِي بِأَمْرِهِ رُخَاءً حَيْثُ أَصَابَ
پھر ہم نے ہوا کو ان کے زیرفرمان کردیا کہ جہاں وہ پہنچنا چاہتے ان کے حکم سے نرم نرم چلنے لگتی
صقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
34آیت

ترجمہ — ص 34

سورہ ص آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم نے سلیمان کی آزمائش کی اور ان کے…

سورہ آیت 34/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں