ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- اغْفِرْ لِي: میری بخشش فرما۔
- هَبْ لِي: مجھے عطا فرما۔
- مُلْكًا: بادشاہت، سلطنت۔
- لَا يَنبَغِي لِأَحَدٍ: جو کسی کے لائق نہ ہو، یعنی کسی کو نہ ملے۔
- الْوَهَّابُ: بہت زیادہ عطا کرنے والا، جو بغیر کسی اجر کے خوب بخشش کرے۔
تفسیر:
حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے رب کے حضور یہ دعا کی: "اے میرے رب! میری مغفرت فرما اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر جو میرے بعد کسی کے لائق نہ ہو، بے شک تو ہی بڑا عطا کرنے والا ہے۔" اس دعا میں انہوں نے دو اہم چیزیں مانگیں: پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف کرے، اور دوسری یہ کہ انہیں ایک ایسی بادشاہت عطا ہو جو ان کی خصوصیت اور کرامت ہو، نہ کہ محض دنیاوی شان و شوکت کے لیے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہ سلطنت ان کے بعد کسی انسان کو حاصل نہ ہو، تاکہ یہ ان کے لیے اللہ کی خاص نشانی اور معجزہ بن جائے۔ یہ ان کی دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی طرف توجہ کا ثبوت تھا، نہ کہ دنیا کی حرص۔ انہوں نے یہ سب کچھ اللہ کی عطا اور کرم سے مانگا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ ہی سب کچھ دینے والا ہے، اور وہ اپنے بندوں کو بغیر کسی شرط کے جو چاہے عطا کرتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سارے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے، ہمیں یہ سیکھنا چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ سے مغفرت مانگنی چاہیے، کیونکہ مغفرت ہی اصل کامیابی ہے۔ دوسرے، جب ہم اللہ سے کوئی چیز مانگیں تو اپنی نیت کو صاف رکھیں اور صرف اللہ کی رضا کے لیے مانگیں، نہ کہ دنیاوی فخر کے لیے۔ تیسرے، اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بے حد محبت کرتا ہے اور ان کی دعائیں سنتا ہے، جیسا کہ اس نے سلیمان علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی اور انہیں ایسی سلطنت عطا کی جو کسی اور کو نہ ملی۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ اگر ہم اخلاص کے ساتھ اللہ سے مانگیں تو وہ ہمیں ضرور عطا کرے گا۔ اللہ کا نام "الوہاب" ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ بغیر کسی سوال کے دیتا ہے، بس ہمیں اس کی طرف رجوع کرنا ہے۔ آئیے، ہم بھی اپنی زندگیوں میں اللہ سے مغفرت اور اس کی رحمت مانگیں، اور اپنے دلوں کو دنیا کی محبت سے پاک کریں، تاکہ اللہ ہمیں بھی وہ کچھ عطا فرمائے جو ہمارے لیے بہتر ہے۔
📜 آیت 33-37 — ص
ترجمہ — ص 35
سورہ آیت 35/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








