ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رُدُّوها: اسے واپس لاؤ۔
- فَطَفِقَ: پس وہ شروع ہو گیا۔
- مَسْحًا: یہاں مراد چھونا یا کاٹنا ہے، جیسا کہ سیاق و سباق سے ظاہر ہے۔
- بِالسُّوقِ وَالْأَعْنَاقِ: پنڈلیوں اور گردنوں پر۔
تفسیر:
حضرت سلیمان علیہ السلام نے جب شام کے وقت عمدہ اور تیز رفتار گھوڑوں کی عرض کی گئی تو وہ ان کی محبت اور ان کی خوبیوں میں اس قدر مشغول ہو گئے کہ عصر کی نماز کا وقت نکل گیا اور سورج غروب ہو گیا۔ جب انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے اللہ کے ذکر (نماز) کو ان گھوڑوں کی محبت کی وجہ سے مؤخر کر دیا ہے تو انہوں نے نہایت افسوس اور ندامت کے ساتھ فرمایا: "ان گھوڑوں کو میرے پاس واپس لاؤ۔" چنانچہ جب گھوڑے واپس لائے گئے تو انہوں نے اپنی اس غلطی کی تلافی کے لیے اپنے ہاتھ سے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر تلوار سے مسح کیا، یعنی انہیں کاٹ دیا تاکہ یہ چیز ان کے دل سے محبتِ دنیا کو ختم کر دے اور وہ مکمل طور پر اللہ کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ یہ ان کی توبہ اور اللہ سے رجوع کا اظہار تھا۔
دعوتی پہلو:
اس واقعے سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دنیا کی محبت اور اس کی رونقیں کبھی بھی اللہ کے ذکر اور عبادت سے مقدم نہیں ہونی چاہئیں۔ حضرت سلیمان علیہ السلام جیسے عظیم نبی کو جب احساس ہوا کہ ان کی توجہ اللہ کے ذکر سے ہٹ گئی ہے تو انہوں نے فوراً اس چیز کو ختم کر دیا جو اس انحراف کا سبب بنی تھی۔ ہمیں بھی اپنی زندگی میں یہی راستہ اپنانا چاہیے کہ اگر کوئی چیز ہمیں اللہ سے دور کر رہی ہو تو اسے ترک کر دیں، چاہے وہ کتنی ہی قیمتی اور پسندیدہ کیوں نہ ہو۔ یہی تقویٰ اور اللہ سے محبت کی نشانی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں کو اللہ کے ذکر اور اطاعت کے تابع کریں اور دنیا کی محبت کو دل سے نکال کر اللہ کی محبت کو فروغ دیں۔
📜 آیت 31-35 — ص
ترجمہ — ص 33
سورہ آیت 33/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








