ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- زُلْفَىٰ: قربت، نزدیکی (خاص طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بلند درجہ اور قرب)
- حُسْنَ مَآبٍ: بہترین انجام، اچھا ٹھکانہ، جنت
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لیے ہمارے پاس (یعنی اللہ کی بارگاہ میں) بلند مرتبہ، قربت اور عظیم درجہ ہے، اور ان کا انجام بھی نہایت خوبصورت اور پسندیدہ ہے۔
یہ وہ عظیم انعام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے برگزیدہ نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کو عطا فرمایا۔ دنیا میں انہیں بادشاہی، علم، حکمت، اور جنات و پرندوں پر تسلط جیسی نعمتیں دی گئیں، لیکن یہ سب کچھ اللہ کے نزدیک اس قربت اور حسنِ انجام کے مقابلے میں کچھ حیثیت نہیں رکھتا۔ اصل کامیابی اور سعادت تو آخرت کی کامیابی ہے، اور وہی دائمی اور حقیقی ہے۔
حضرت سلیمان علیہ السلام کی یہ فضیلت ان کے صبر، شکر، عدل اور اللہ کی اطاعت کی بدولت حاصل ہوئی۔ انہوں نے دنیا کی بادشاہی کو اللہ کی رضا کا ذریعہ بنایا، نہ کہ غرور اور تکبر کا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں بھی عزت دی اور آخرت میں بھی ان کے لیے قربت اور جنت کا عظیم مقام تیار کیا۔
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ دنیا کی دولت، عزت اور اقتدار اگر اللہ کی اطاعت اور اس کی راہ میں صرف کیے جائیں تو وہ ہمارے لیے آخرت میں بلندی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو نہ صرف دنیا میں کامیابی دیتا ہے بلکہ آخرت میں بھی انہیں اپنی قربت اور جنت سے نوازتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم حضرت سلیمان علیہ السلام کی سیرت سے سبق حاصل کریں اور اپنی زندگی میں اللہ کی اطاعت اور اس کی رضا کو اولین ترجیح دیں۔ یاد رکھیں، اصل کامیابی وہی ہے جو اللہ کے ہاں ملے، اور اللہ کی قربت سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنی قربت اور حسنِ انجام عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 38-42 — ص
ترجمہ — ص 40
سورہ آیت 40/88 — ص ص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ص سنیں, ص ترجمہ, ص mp3, ص pdf. آیت 38–42. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








