بھلا جس شخص پر عذاب کا حکم صادر ہوچکا۔ تو کیا تم (ایسے) دوزخی کو مخلصی دے سکو گے؟
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حَقَّ عَلَیْهِ: جس پر ثابت ہو گئی، لازم ہو گئی۔
کَلِمَةُ الْعَذَابِ: عذاب کا فیصلہ، یعنی اللہ کا وہ حکم جو عذاب کے مستحق ہونے پر صادر ہو چکا ہو۔
تُنْقِذُ: بچانا، چھڑانا۔
تفسیر:
اے محبوب رسول! کیا وہ شخص جس پر اللہ کا عذاب ثابت ہو چکا ہے، یعنی جس نے کفر اور سرکشی پر اصرار کیا اور اپنی ضد اور عناد میں پڑا رہا، کیا آپ اسے ہدایت دے سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! جس پر اللہ کا فیصلہ نافذ ہو چکا ہو، اسے کوئی بدل نہیں سکتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یہ لوگ جہنم کے لیے ہیں، اور مجھے ان کی پرواہ نہیں"۔
پھر فرمایا: کیا آپ اس شخص کو آگ سے نکال سکتے ہیں جو پہلے ہی آگ میں ڈالا جا چکا ہو؟ یقیناً یہ آپ کے بس میں نہیں۔ آپ کا کام صرف تبلیغ کرنا ہے، ہدایت دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ جس نے حق کو ٹھکرا دیا اور باطل پر جم گیا، اس کے لیے آپ کچھ نہیں کر سکتے، چاہے آپ کتنا ہی چاہیں کہ وہ نجات پا جائے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں اپنی نجات کا فیصلہ خود کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور اختیار دیا ہے، اور قرآن و سنت کی روشنی میں راستہ بھی دکھا دیا ہے۔ جو شخص حق کو قبول کر لے اور اپنی زندگی سنوار لے، وہ کامیاب ہے۔ لیکن جو ضد اور تکبر پر اڑا رہے، وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل کو نرم کریں، اللہ کے کلام پر غور کریں، اور اپنے اعمال کو درست کریں تاکہ ہم ان لوگوں میں سے نہ ہوں جن پر عذاب کا فیصلہ صادر ہو چکا ہو۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے۔ آج ہی توبہ کر لیں، آج ہی اللہ کی طرف رجوع کر لیں، کیونکہ کل کا پتہ نہیں۔
لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے اونچے اونچے محل ہیں جن کے اوپر بالا خانے بنے ہوئے ہیں۔ (اور) ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کا وعدہ ہے۔ خدا وعدے کے خلاف نہیں کرتا
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا آسمان سے پانی نازل کرتا پھر اس کو زمین میں چشمے بنا کر جاری کرتا پھر اس سے کھیتی اُگاتا ہے جس کے طرح طرح کے رنگ ہوتے ہیں۔ پھر وہ خشک ہوجاتی ہے تو تم اس کو دیکھتے ہو (کہ) زرد (ہوگئی ہے) پھر اسے چورا چورا کر دیتا ہے۔ بےشک اس میں عقل والوں کے لئے نصیحت ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔