نساء · 112/176
ترجمہ تلفظ — نساء
وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا ۝١١٢
Wa mai yaksib khateee`atan aw isman summa yarmi bihee bareee`an faqadih tamala buhtaananw wa ismam mubeenaa
📖 اردو ترجمہ
اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • خطیئہ: وہ غلطی جو بغیر قصد کے سرزد ہو جائے۔
  • إثم: وہ گناہ جو جان بوجھ کر کیا جائے۔
  • یرمی بہ: کسی پر تہمت لگانا، الزام دھرنا۔
  • بریئ: بے گناہ، معصوم۔
  • بہتان: جھوٹا الزام، ایسی تہمت جس سے سننے والا حیران رہ جائے۔
  • مبین: واضح، کھلا ہوا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے بندوں کو ایک انتہائی اہم سبق دیتا ہے۔ فرماتا ہے کہ جو شخص کوئی خطیئہ (بے قصد غلطی) کر بیٹھے یا کوئی گناہ جان بوجھ کر کرے، پھر اس کے بعد وہ اپنے اس قصور یا گناہ کا الزام کسی بے گناہ اور معصوم انسان پر دھر دے، تو اس نے اپنے اوپر دوہرا بوجھ لاد لیا۔ ایک طرف اس نے اپنے اصل گناہ کا وبال اٹھایا، دوسری طرف اس نے جھوٹی تہمت اور بہتان کا کھلا گناہ بھی اپنے سر لے لیا۔

یہ عمل انتہائی قبیح اور اللہ کے نزدیک سخت ناپسندیدہ ہے۔ بہتان ایسا ظلم ہے جو معصوم انسان کی عزت کو تاراج کر دیتا ہے، اس کی نیندیں حرام کر دیتا ہے، اور معاشرے میں بے چینی اور بدامنی پھیلا دیتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے "بُہتان عظیم" اور "إثم مبین" یعنی کھلا اور واضح گناہ قرار دیا ہے۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی غلطیوں کا ذمہ داری خود قبول کرنی چاہیے، دوسروں پر الزام تراشی کر کے اپنے قصور کو چھپانے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ایک مومن کی شان یہ ہے کہ وہ سچا اور ایماندار ہو، اپنی غلطی پر معافی مانگے، اور کبھی کسی بے گناہ کو اپنے گناہ کا نشانہ نہ بنائے۔

یاد رکھیے! اللہ تعالیٰ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، ہر نیت کو جانتا ہے، اور ہر عمل کا حساب لینے والا ہے۔ جو شخص بہتان تراشتا ہے، وہ درحقیقت اپنے آپ کو اللہ کے عذاب کا مستحق بنا رہا ہے، کیونکہ قیامت کے دن ہر بے گناہ کو انصاف ملے گا اور ہر ظالم کو اس کے ظلم کا پھل بھگتنا پڑے گا۔

اللہ ہمیں سچائی، دیانت داری اور بے گناہوں کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 110-114 — نساء

110وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا
اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا اور مہربان پائے گا
111وَمَن يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
112وَمَن يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُّبِينًا
اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو مہتم کردے تو اس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا
113وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّت طَّائِفَةٌ مِّنْهُمْ أَن يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَيْءٍ ۚ وَأَنزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُن تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
114۞ لَّا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِّن نَّجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا
ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
112آیت

ترجمہ — نساء 112

سورہ نساء آیت 112 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے…

سورہ آیت 112/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 110–114. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں