اور جو کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَکْسِبْ: کمانا، حاصل کرنا۔
إِثْمًا: گناہ، خطا، برائی۔
عَلَیٰ نَفْسِهِ: اسی کے خلاف، اسی کے ذمے۔
عَلِیمًا: سب کچھ جاننے والا۔
حَکِیمًا: حکمت والا، ہر کام مصلحت سے کرنے والا۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ایک اہم حقیقت بیان فرما رہے ہیں کہ جو شخص بھی گناہ اور برائی کا ارتکاب کرتا ہے، چاہے وہ گناہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس کا وبال اسی پر پڑتا ہے۔ گناہ کا نقصان صرف اور صرف گناہ کرنے والے کو ہوتا ہے، اس کا اثر کسی اور پر نہیں پڑتا۔ یہ اللہ کا عدل ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار خود ہے، اور کسی کا گناہ کسی دوسرے کو منتقل نہیں ہوگا۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، کوئی عمل اس سے پوشیدہ نہیں، چاہے وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ نیز وہ حکیم ہے، یعنی وہ ہر معاملے میں حکمت سے کام لیتا ہے، اپنے فیصلوں میں عدل و انصاف سے پیش آتا ہے، اور ہر ایک کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے اعمال کی ذمہ داری خود اٹھائیں۔ کبھی کبھی انسان سوچتا ہے کہ گناہ چھپ جائے گا یا اس کا نقصان کسی اور کو ہوگا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ گناہ کا نقصان خود گناہ کرنے والے کو ہوتا ہے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے ہمیں بتایا کہ ہم اپنے مستقبل کے معمار خود ہیں۔ اگر ہم نیکی کریں گے تو اس کا فائدہ ہمیں ہوگا، اور اگر برائی کریں گے تو اس کا نقصان بھی ہمیں ہی بھگتنا پڑے گا۔ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر وقت اس کی نگرانی کا احساس رکھیں اور گناہوں سے بچیں، کیونکہ اللہ حکیم ہے اور اس کا ہر فیصلہ عدل پر مبنی ہے۔
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔