Wa law laa fadlul laahi `alaika wa rahmatuhoo lahammat taaa`ifatum minhum ai yudillooka wa maa yudilloona illaaa anfusahum wa maa yadurroonaka min shai`; wa anzalal laahu `alaikal Kitaaba wal Hikmata wa `allamaka maa lam takun ta`lam; wa kaana fadlul laahi `alaika `azeemaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر فضل و رحمت خدا شامل حال تو نبود، گروهى از كافران قصد آن داشتند كه تو را گمراه كنند، ولى آنان جز خود را گمراه نكنند و هيچ زيانى به تو نرسانند. و خدا بر تو كتاب و حكمت نازل كرد و چيزهايى به تو آموخت كه از اين پيش نمىدانستهاى و خدا لطف بزرگ خود را بر تو ارزانى داشت.
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
لَوْلَا: اگر نہ ہوتا۔
لَهَمَّت: ارادہ کیا، قصد کیا۔
طَائِفَةٌ: ایک گروہ، ایک جماعت۔
أَن يُضِلُّوكَ: کہ وہ آپ کو گمراہ کریں، راہِ حق سے بھٹکائیں۔
وَمَا يَضُرُّونَكَ مِن شَيْءٍ: اور وہ آپ کو کسی بھی چیز سے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
الْحِكْمَةَ: سنتِ نبوی، وہ علم و فہم جو وحی کے ذریعے دیا گیا۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت آپ کے شاملِ حال نہ ہوتی، تو ان میں سے ایک گروہ (جو خود اپنے نفسوں پر ظلم کر رہا تھا) نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ آپ کو راہِ حق سے بھٹکا دے، تاکہ آپ ان کے مفاد کے مطابق فیصلہ صادر فرمائیں۔ لیکن اللہ نے اپنے فضل و کرم سے آپ کو محفوظ رکھا اور آپ کی عصمت کا سامان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی اس کوشش سے خود کو ہی گمراہ کر رہے تھے، کیونکہ ان کے اس برے ارادے کا وبال انہیں پر لوٹ کر آتا ہے۔ وہ آپ کو ذرا بھی نقصان نہیں پہنچا سکتے، کیونکہ اللہ نے آپ کو اپنی حفاظت میں لے رکھا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضلِ عظیم کا ذکر فرماتے ہوئے کہا کہ اس نے آپ پر قرآن مجید نازل فرمایا، جو ہدایت کا سرچشمہ ہے، اور حکمت (سنتِ نبوی) عطا فرمائی، جو قرآن کی تشریح اور عملی نمونہ ہے۔ نیز آپ کو وہ علوم عطا کیے جو آپ پہلے نہیں جانتے تھے، جیسے غیب کے اسرار، احکامِ شریعت کی حکمتیں، اور امت کی مصلحتوں کا علم۔ بے شک اللہ کا فضل آپ پر بہت عظیم ہے، کیونکہ یہ فضل نبوت، عصمت اور علمِ لدنی کی صورت میں ظاہر ہوا، جو کسی اور کو حاصل نہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس قدر مہربان ہے، خاص کر اپنے نبی ﷺ پر۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ کے فضل و رحمت کا سہارا لیں، کیونکہ وہی ہمیں گمراہی سے بچاتا ہے۔ جس طرح اللہ نے نبی ﷺ کو دشمنوں کے مکر سے محفوظ رکھا، اسی طرح وہ اپنے مخلص بندوں کو بھی شیطان اور برے لوگوں کے شر سے بچاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن و سنت کو مضبوطی سے تھامیں، کیونکہ یہی وہ دو چیزیں ہیں جو اللہ نے ہمیں ہدایت کے لیے عطا فرمائیں۔ جو شخص ان پر عمل کرے گا، اللہ اسے وہ علم و فہم عطا فرمائے گا جو اسے دنیا و آخرت میں کامیاب بنائے گا۔ اللہ کا فضل واقعی بہت عظیم ہے، اور ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے اور اپنی زندگیوں کو اس کی رضا کے مطابق ڈھالنا چاہیے۔
اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کر ہی چکی تھی اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکا نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کا بڑا فضل ہے
ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے
اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالف کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔