نساء · 155/176
ترجمہ تلفظ — نساء
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا ۝١٥٥
Fabimaa naqdihim meesaaqahum wa kufrihim bi Aayaatil laahi wa qatlihimul Ambiyaaa`a bighairi haqqinw wa qawlihim quloobunna ghulf; bal taba`al laahu `alaihaa bikufrihim falaa yu`minoona illaa qaleelaa
📖 اردو ترجمہ
(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ: عہد توڑنا
  • غُلْفٌ: ڈھکے ہوئے دل (یعنی جو بات سمجھنے کے قابل نہ ہوں)
  • طَبَعَ اللہُ عَلَیْہَا: اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی

تفسیر:

یہ آیت بنی اسرائیل کے ان سنگین جرائم کا ذکر کر رہی ہے جن کی پاداش میں انہیں اللہ کی رحمت سے محروم کر دیا گیا اور ان پر لعنت کی گئی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان یہودیوں کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا، وہ ان کے اپنے کیے کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اللہ سے جو عہد و پیمان لیا تھا، اسے توڑ ڈالا، اللہ کی آیات کو جھٹلایا، اپنے نبیوں کو ناحق قتل کیا اور بڑھ چڑھ کر کہا کہ ہمارے دل ڈھکے ہوئے ہیں، ہم تمہاری بات نہیں سمجھتے۔

یہ ان کی معذرت تھی، لیکن حقیقت یہ تھی کہ ان کے دلوں پر اللہ نے خود مہر لگا دی تھی کیونکہ انہوں نے حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ جب انسان ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے تو اللہ اس کے دل کو بند کر دیتا ہے، جس کے بعد وہ ہدایت قبول نہیں کر پاتا۔ ان میں سے صرف بہت کم لوگ ایمان لائے، جیسے عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی، لیکن اکثریت ایمان سے محروم رہی۔

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ اللہ کے ساتھ عہد و پیمان کو مضبوطی سے تھامے رکھنا چاہیے۔ جو لوگ اللہ کے دین سے منہ موڑتے ہیں اور اپنے نبیوں کی تعلیمات کو نظر انداز کرتے ہیں، ان کا انجام یہی ہوتا ہے کہ ان کے دل سخت ہو جاتے ہیں اور وہ ہدایت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو نرم رکھیں، قرآن و سنت کی تعلیمات کو کھلے دل سے قبول کریں اور اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت انہیں لوگوں کے لیے ہے جو اپنے دلوں کو صاف رکھتے ہیں اور حق کو قبول کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔



📜 آیت 153-157 — نساء

153يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِن ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَن ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُّبِينًا
(اے محمدﷺ) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں کہ تم ان پر ایک (لکھی ہوئی) کتاب آسمان سے اتار لاؤ تو یہ موسیٰ سے اس سے بھی بڑی بڑی درخواستیں کرچکے ہیں (ان سے) کہتے تھے ہمیں خدا ظاہر (یعنی آنکھوں سے) دکھا دو سو ان کے گناہ کی وجہ سے ان کو بجلی نے آپکڑا۔ پھر کھلی نشانیاں آئے پیچھے بچھڑے کو (معبود) بنا بیٹھے تو اس سے بھی ہم نے درگزر کی۔ اور موسیٰ کو صریح غلبہ دیا
154وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا
اور ان سے عہد لینے کو ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کھڑا کیا اور انہیں حکم دیا کہ (شہر کے) دروازے میں (داخل ہونا تو) سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ بھی حکم دیا کہ ہفتے کے دن (مچھلیاں پکڑنے) میں تجاویز (یعنی حکم کے خلاف) نہ کرنا۔ غرض ہم نے ان سے مضبوط عہد لیا
155فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا
(لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے عہد توڑ دینے اور خدا کی آیتوں سے کفر کرنے اور انبیاء کو ناحق مار ڈالنے اور یہ کہنے کے سبب کہ ہمارے دلوں پر پردے (پڑے ہوئے) ہیں۔ (خدا نے ان کو مردود کردیا اور ان کے دلوں پر پردے نہیں ہیں) بلکہ ان کے کفر کے سبب خدا نے ان پر مہر کردی ہے تو یہ کم ہی ایمان لاتے ہیں
156وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا
اور ان کے کفر کے سبب اور مریم پر ایک بہتان عظیم باندھنے کے سبب
157وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا
اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
155آیت

ترجمہ — نساء 155

سورہ نساء آیت 155 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (لیکن انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا) تو ان کے…

سورہ آیت 155/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 153–157. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں