Alam tara ilal lazeena qeela lahum kuffooo aidiyakum wa aqeemus Salaata w aaatuz Zakaata falammaa kutiba `alaihimul qitaalu izaa fareequm minhum yakhshawnnan naasa kakhashyatil laahi aw ashadda khashyah; wa qaaloo Rabbanaa lima katabta `alainal qitaala law laaa akhkhartanaa ilaaa ajalin qareeb; qul mataa`ud dunyaa qaleelunw wal Aakhiratu khairul limanit taqaa wa laa tuzlamoona fateelaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س) ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آيا نديدى كسانى را كه به آنها گفته شد كه اكنون از جنگ بازايستيد و نماز بخوانيد و زكات بدهيد، كه چون جنگيدن بر آنان مقرر شد، گروهى چنان از مردم ترسيدند كه بايد از خدا مىترسيدند؟ حتى ترسى بيشتر از ترس خدا. و گفتند: اى پروردگار ما، چرا جنگ را بر ما واجب كردهاى و ما را مهلت نمىدهى تا به مرگ خود -كه نزديك است- بميريم؟ بگو: متاع اينجهانى اندك است و آخرت از آن پرهيزگاران است و به شما حتى به قدر رشتهاى كه در ميان هسته خرماست ستم نمى شود.
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س) ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
کُفُّوا أَیْدِیَکُمْ: اپنے ہاتھوں کو روکو، یعنی جنگ سے باز رہو۔
کُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ: ان پر جہاد فرض کیا گیا۔
کَخَشْیَةِ اللّٰهِ: جیسے اللہ کا خوف ہوتا ہے۔
فَتِیْلًا: کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں موجود باریک دھاگہ، جو انتہائی معمولی چیز کی مثال ہے۔
تفسیر:
اے نبی! کیا آپ نے اُن لوگوں کا حال نہیں دیکھا جن سے پہلے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو (یعنی ابھی جنگ نہ کرو)، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو؟ یہ حکم اُس وقت تھا جب مسلمان مکہ میں کمزور تھے اور جہاد کی اجازت نہیں تھی۔ لیکن جب وہ مدینہ ہجرت کر گئے اور اللہ نے اُن پر جہاد فرض کیا، تو اُن میں سے ایک گروہ پر یہ بات بہت گراں گزری۔ وہ لوگ مشرکینِ مکہ سے اس طرح ڈرنے لگے جیسے اللہ سے ڈرتے ہیں، بلکہ اُن کا خوف اللہ کے خوف سے بھی زیادہ تھا۔ وہ کہنے لگے: "اے ہمارے رب! تو نے ہم پر جہاد کیوں فرض کیا؟ کیوں نہ ہمیں تھوڑی سی مہلت دی کہ ہم دنیا کے چند دن اور مزے سے گزار لیں؟" یہ اُن کی دنیا سے محبت اور آخرت سے غفلت کا ثبوت تھا۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ اُن سے کہیں: دنیا کا سامان بہت تھوڑا ہے، چاہے وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، وہ چند دنوں کا جھوٹا سامان ہے جو ختم ہو جانے والا ہے۔ اور آخرت کی نعمتیں، جو اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ہیں، کہیں بہتر اور دائمی ہیں۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا، یعنی اللہ کے احکام پر عمل کرے گا اور اُس کی منع کردہ چیزوں سے بچے گا، اُس کے لیے آخرت ہی بہتر ہے۔ اور اللہ تمہارے اعمال میں کوئی کمی نہیں کرے گا، چاہے وہ کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں موجود باریک دھاگے کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ ہر ذرہ برابر نیکی کا بدلہ دے گا اور ہر ذرہ برابر گناہ کا حساب لے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا کی محبت انسان کو اللہ کے احکام سے برگشتہ کر دیتی ہے۔ جب اللہ کسی کام کا حکم دیتا ہے، تو وہ ہماری بھلائی کے لیے ہوتا ہے، چاہے وہ ہمیں مشکل لگے۔ جہاد، نماز، زکوٰۃ — یہ سب احکام ہمارے لیے رحمت ہیں۔ اللہ نے ہمیں دنیا میں آزمائش کے لیے بھیجا ہے، اور آخرت ہی اصل ٹھکانہ ہے۔ دنیا کی خوشیاں چند دن کی ہیں، لیکن آخرت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ پر بھروسہ رکھیں، اُس کے احکام پر عمل کریں، اور اُس سے ڈریں — نہ کہ مخلوق سے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور وہ ہماری کوئی نیکی ضائع نہیں کرے گا۔ آئیے ہم دنیا کی عارضی لذتوں کو آخرت کی دائمی نعمتوں پر ترجیح نہ دیں، اور اللہ کے حکموں کو خوشی سے قبول کریں۔
اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں اور اُن بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا۔ اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا۔ اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما
جو مومن ہیں وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔ (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س) ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا
(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے
اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔