Ainamaa takoonoo yudrikkumul mawtu wa law kuntum fee buroojim mushai yadah; wa in tusibhum hasanatuny yaqooloo haazihee min indil laahi wa in tusibhum saiyi`atuny yaqooloo haazihee min `indik; qul kullum min `indillaahi famaa lihaaa `ulaaa`il qawmi laa yakkaadoona yafqahoona hadeesaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
هر جا كه باشيد ولو در حصارهاى سخت استوار، مرگ شما را درمى يابد. و اگر خيرى به آنها رسد مىگويند كه از جانب خدا بود و اگر شرى به آنها رسد مىگويند كه از جانب تو بود. بگو: همه از جانب خداست. چه بر سر اين قوم آمده است كه هيچ سخنى را نمىفهمند؟
(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بُرُوجٍ مُّشَيَّدَةٍ: بلند و مضبوط قلعے اور مضبوط حصار۔
حَسَنَةٌ: خوشحالی، فتح، رزق کی فراوانی۔
سَیِّئَةٌ: مصیبت، شکست، تنگی۔
یَفْقَهُونَ: سمجھتے ہیں۔
تفسیر:
اے لوگو! تم جہاں بھی ہو، موت تمہیں ضرور پکڑے گی، چاہے تم مضبوط اور بلند قلعوں میں کیوں نہ چھپے ہوئے ہو۔ یہ حقیقت ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے اور اس سے بھاگنا یا چھپنا ممکن نہیں۔ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے جنگ احد کے شہداء کے بارے میں کہا تھا کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ قتل ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس خیال کی تردید فرمائی کہ حذر اور احتیاط تقدیر کو نہیں ٹال سکتی۔
پھر اللہ تعالیٰ منافقین کے رویے پر گرفت فرماتا ہے کہ جب انہیں کوئی خوشی ملتی ہے جیسے جنگ بدر میں فتح اور مال غنیمت، تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ لیکن جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے جیسے جنگ احد میں شکست اور نقصان، تو وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدشگونی سے منسوب کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ آپ کی وجہ سے ہوا۔ یہ ان کی جہالت اور بدگمانی کی انتہا ہے۔
اللہ تعالیٰ انہیں جواب دینے کا حکم دیتا ہے کہ اے نبی! آپ فرما دیں کہ ہر چیز، چاہے اچھی ہو یا بری، اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ خوشی اور غمی، فتح اور شکست، سب کچھ اللہ کے قضاء اور قدر سے ہی ہوتا ہے۔ کوئی چیز اللہ کے حکم کے بغیر نہیں ہوتی۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کی ناسمجھی پر تعجب کا اظہار فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات سمجھتے ہی نہیں؟ وہ حق کو سمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کی تقدیر پر کامل یقین رکھنا چاہیے۔ موت سے بھاگنا کوئی نہیں سکتا، اس لیے ہمیں اللہ کی اطاعت اور نیک اعمال میں مشغول رہنا چاہیے۔ جب ہمیں کوئی نعمت ملے تو ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور جب کوئی مصیبت آئے تو صبر کرنا چاہیے، کیونکہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہے۔ ہمیں اپنی ناکامیوں کا الزام دوسروں پر نہیں ڈالنا چاہیے، بلکہ اپنے اعمال کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہی ایمان کا تقاضا ہے کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی رضا پر راضی رہیں۔ اللہ ہمیں صحیح سمجھ اور کامل ایمان عطا فرمائے۔ آمین۔
جو مومن ہیں وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مددگاروں سے لڑو۔ (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بودا ہوتا ہے
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے رہو اور زکوٰة دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑبڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی (اے پیغمبر ان س) ے کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں کیا جائے گا
(اے جہاد سے ڈرنے والو) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہے گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمدﷺ تم سے) کہتے ہیں کہ یہ گزند آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج وراحت) سب الله ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے
اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔