Wa yaqooloona taa`antun fa izaa barazoo min `indika baiyata taaa`ifatum minhum ghairal lazee taqoolu wallaahu yaktubu maa yubaiyitoona faa`rid `anhum wa tawakkal `alal laah; wa kafaa billaahi Wakeelaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مىگويند: فرمانبرداريم. و چون از نزد تو بيرون شوند گروهى از ايشان به شب خلاف آنچه تو مىگويى انديشهاى در دل مىپرورند. و خدا آنچه را شب در خاطر گرفتهاند مىنويسد. پس، از ايشان اعراض كن و بر خداى توكل كن كه او كارسازى را كافى است.
اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
طَاعَةٌ: ہم آپ کی اطاعت کرتے ہیں۔
بَرَزُوا: باہر نکلے، الگ ہوئے۔
بَيَّتَ: رات کے وقت خفیہ منصوبہ بنایا۔
یَکْتُبُ: لکھتا ہے، محفوظ فرماتا ہے۔
وَكِيلًا: کارساز، مددگار، بھروسے کا سہارا۔
تفسیر:
یہ آیت منافقین کے اس کردار سے پردہ اٹھاتی ہے جو وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں اور اس سے باہر اپناتے تھے۔ جب وہ آپ ﷺ کے سامنے ہوتے تو زبان سے کہتے کہ ہم آپ کی اطاعت کرتے ہیں، آپ کا حکم مانتے ہیں، لیکن جیسے ہی وہ آپ کی مجلس سے نکل کر الگ ہوتے، ان میں سے ایک گروہ رات کے اندھیرے میں خفیہ مشورے کرتا اور اس کے برعکس منصوبے بناتا جو وہ آپ کے سامنے زبان سے کہہ چکے تھے۔ وہ اپنے دلوں میں نفاق رکھتے ہیں، اپنی حقیقت چھپاتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کا حال خوب جانتا ہے اور ان کے خفیہ منصوبوں کو لکھ رہا ہے تاکہ انہیں اس کا پورا بدلہ دے۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو ہدایت فرماتا ہے کہ ان منافقوں کی پرواہ نہ کریں، ان کی باتوں سے دل برداشتہ نہ ہوں، ان سے اعراض کریں اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کردیں۔ اللہ ہی کافی ہے بطور کارساز اور مددگار، وہ آپ کی حفاظت کرے گا اور آپ کے دشمنوں کے مکر و فریب سے آپ کو بچائے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ منافقین کا طریقہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ وہ سامنے اطاعت کا اظہار کرتے ہیں اور پیٹھ پیچھے مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن ایک مومن کا شیوہ یہ ہے کہ وہ ظاہر اور باطن میں یکساں ہو، اس کی زبان اور دل میں کوئی فرق نہ ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال اور اقوال میں خلوص پیدا کریں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چھپی ہوئی بات کو جانتا ہے اور ہر نیت کا محاسبہ کرنے والا ہے۔ نیز یہ کہ جب ہم اللہ پر بھروسہ کریں تو وہ ہمارے لیے کافی ہے، چاہے دشمن کتنے ہی مکار کیوں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا جو اس پر توکل کرتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں اللہ کو وکیل بنائیں اور اس کی ذات پر مکمل یقین رکھیں، کیونکہ وہی سب سے بہتر کارساز ہے۔
اے (آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال) کی وجہ سے ہے اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لئے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے
اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور ہے) لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ رکھو اور خدا ہی کافی کارساز ہے
اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اس کو مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچاتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کر لیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔