غافر · 85/85
ترجمہ تلفظ — غافر
فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ ۝٨٥
Falam yaku tanfa `uhum eemaanuhum lammaa ra-aw baasana sunnatal laahil latee qad khalat fee `ibaadihee wa khasira hunaalikal kaafiroon
📖 اردو ترجمہ
لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بأسنا: ہمارا عذاب، ہماری سزا۔
  • سنّت اللہ: اللہ کا قائم کردہ مستقل قانون اور طریقہ۔
  • خَلَت: گزر چکی، پہلے سے جاری ہے۔
  • خَسِرَ: نقصان اٹھایا، تباہ و برباد ہوا۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں بتایا ہے جنہوں نے عذاب آتے دیکھ کر ایمان لانے کی کوشش کی، لیکن وہ ایمان انہیں کوئی فائدہ نہ دے سکا۔ جب انہوں نے ہمارا عذاب آنکھوں سے دیکھ لیا، تو اس وقت ایمان لانا بیکار تھا، کیونکہ یہ ایمان اضطراری تھا، اختیاری نہیں۔ وہ ڈر اور خوف کی وجہ سے ایمان لائے تھے، نہ کہ دل کی سچی رغبت اور محبت سے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ساتھ یہی سنت جاری رکھی ہے کہ جب عذاب نازل ہونے لگتا ہے، تو اس وقت کیا گیا ایمان قبول نہیں ہوتا۔ یہ اللہ کا اٹل قانون ہے جو پہلے امتوں میں بھی جاری رہا اور آئندہ بھی رہے گا۔

اس موقع پر کافر لوگ سخت نقصان میں رہے، کیونکہ انہوں نے اپنی جانوں کو ہلاکت میں ڈال دیا۔ ان کا کفر اور سرکشی انہیں عذاب کے گڑھے میں لے گئی، اور جب عذاب آیا تو ان کا پشیمان ہونا اور دیر سے ایمان لانا کچھ کام نہ آیا۔ یہ سب سے بڑا خسارہ ہے کہ انسان ساری عمر کفر اور نافرمانی میں گزارے، اور جب موت یا عذاب سامنے آئے تو ایمان لائے، لیکن وہ وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ایمان اور توبہ کا صحیح وقت زندگی ہے، جب ہم صحت مند ہیں اور اختیار رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں مہلت دی ہے، ہر روز نیا موقع دیا ہے کہ ہم اپنے دل کو ایمان کی روشنی سے منور کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور نیک اعمال کریں۔ یہ نہ سوچیں کہ کل کریں گے، کیونکہ کل کا پتہ نہیں۔ موت اچانک آتی ہے، اور عذاب بھی اچانک آتا ہے۔ اللہ کا دروازہ کھلا ہے، وہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے، لیکن یہ دروازہ ہمیشہ کھلا نہیں رہے گا۔ آج ہی اپنے خالق سے رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور ایمان کی حلاوت کو محسوس کریں۔ یہی کامیابی ہے، یہی نجات ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں جنت کی طرف لے جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، لیکن اس کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا نہیں رہتا۔ اس لیے دیر نہ کریں، آج ہی واپس آجائیں۔



📜 آیت 83-85 — غافر

83فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا
84فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے
85فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ
لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے
غافرقرآن فہرست
85آیت
مکیRevelation
85آیت

ترجمہ — غافر 85

سورہ غافر آیت 85 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان…

سورہ آیت 85/85 — غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غافر سنیں, غافر ترجمہ, غافر mp3, غافر pdf. آیت 83–85. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں