غافر · 84/85
ترجمہ تلفظ — غافر
فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ ۝٨٤
Falammaa ra aw baasanaa qaalooo aamannaa billaahi wahdahoo wa kafarnaa bimaa kunnaa bihee mushrikeen
📖 اردو ترجمہ
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے
📜

ترجمہ — Tafsir

﴿فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا﴾ یعنی جب انہوں نے ہمارا عذاب آتے دیکھا ﴿قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ﴾ تو کہنے لگے کہ ہم صرف اللہ پر ایمان لائے ﴿وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ﴾ اور ہم نے ان سب چیزوں سے کفر کیا جنہیں ہم اللہ کے ساتھ شریک بناتے تھے۔

معانی الفاظ:

  • بَأْسَنَا: ہمارا عذاب، ہماری سخت پکڑ
  • آمَنَّا: ہم ایمان لائے
  • كَفَرْنَا: ہم نے انکار کیا، ہم کافر ہوئے
  • مُشْرِكِينَ: شریک بنانے والے، اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانے والے

تفسیر:

یہ آیت ان لوگوں کا حال بیان کر رہی ہے جو اپنی سرکشی اور تکبر میں حد سے گزر گئے تھے۔ جب ان پر اللہ کا عذاب آیا، جب مصیبت نے انہیں گھیر لیا اور موت کی گھڑی قریب آگئی، تو اس وقت ان کی زبان سے نکلا: "ہم اللہ پر ایمان لائے اور ہم نے ان سب معبودوں سے کفر کیا جنہیں ہم پہلے شریک ٹھہراتے تھے۔"

لیکن یہ اقرار اس وقت کیا گیا جب اقرار کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ یہ ایمان نہیں تھا بلکہ عذاب سے بچنے کی بے سود کوشش تھی۔ جب عذاب آ چکا ہو تو ایمان لانا قبول نہیں ہوتا، جیسا کہ فرعون نے جب غرقاب ہونے لگا تو کہا "میں ایمان لایا" مگر اس کا ایمان قبول نہ کیا گیا۔

یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ ایمان وہی قبول ہے جو عافیت اور راحت کے وقت ہو، نہ کہ عذاب اور مصیبت کے وقت۔ جو شخص صحت مندی اور خوشحالی میں اللہ کو یاد نہیں کرتا، وہ مصیبت میں پکار کر کیا حاصل کر سکتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص عافیت کے وقت اللہ کو پہچانے گا، اللہ اسے مصیبت کے وقت محفوظ رکھے گا۔"

یہ آیت ان لوگوں کے لیے بھی نصیحت ہے جو آج اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں، بتوں اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں، یا اپنے اعمال میں ریا اور دکھاوا کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ جب عذاب آئے گا تو یہ اقرار بھی کام نہ آئے گا۔ آج ہی توبہ کر لیں، آج ہی اللہ کی طرف رجوع کر لیں، کیونکہ آج کا ایمان اور آج کی توبہ قبول ہے، لیکن کل کا ایمان اور کل کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم عافیت کے وقت اسے پہچانیں، اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 82-85 — غافر

82أَفَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْهُمْ وَأَشَدَّ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَمَا أَغْنَىٰ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ
کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی تاکہ دیکھتے جو لوگ ان سے پہلے تھے ان کا انجام کیسا ہوا۔ (حالانکہ) وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور اور زمین میں نشانات (بنانے) کے اعتبار سے بہت بڑھ کر تھے۔ تو جو کچھ وہ کرتے تھے وہ ان کے کچھ کام نہ آیا
83فَلَمَّا جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِالْبَيِّنَاتِ فَرِحُوا بِمَا عِندَهُم مِّنَ الْعِلْمِ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ
اور جب ان کے پیغمبر ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے تو جو علم (اپنے خیال میں) ان کے پاس تھا اس پر اترانے لگے اور جس چیز سے تمسخر کیا کرتے تھے اس نے ان کو آ گھیرا
84فَلَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا قَالُوا آمَنَّا بِاللَّهِ وَحْدَهُ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهِ مُشْرِكِينَ
پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے لگے کہ ہم خدائے واحد پر ایمان لائے اور جس چیز کو اس کے ساتھ شریک بناتے تھے اس سے نامعتقد ہوئے
85فَلَمْ يَكُ يَنفَعُهُمْ إِيمَانُهُمْ لَمَّا رَأَوْا بَأْسَنَا ۖ سُنَّتَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ فِي عِبَادِهِ ۖ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْكَافِرُونَ
لیکن جب وہ ہمارا عذاب دیکھ چکے (اس وقت) ان کے ایمان نے ان کو کچھ بھی فائدہ نہ دیا۔ (یہ) خدا کی عادت (ہے) جو اس کے بندوں (کے بارے) میں چلی آتی ہے۔ اور وہاں کافر گھاٹے میں پڑ گئے
غافرقرآن فہرست
85آیت
مکیRevelation
84آیت

ترجمہ — غافر 84

سورہ غافر آیت 84 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو کہنے…

سورہ آیت 84/85 — غافر غافر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: غافر سنیں, غافر ترجمہ, غافر mp3, غافر pdf. آیت 82–85. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں