Iz jaaa`at humur Rusulu mim baini aydeehim wa min khalfihim allaa ta`budooo illal laaha qaaloo law shaaa`a Rabunaa la anzala malaaa `ikatan fa innaa bimaaa ursiltum bihee kaafiroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آنگاه كه رسولان پيش و بعد آنها نزدشان آمدند و گفتند كه جز خداى يكتا را مپرستيد، گفتند: اگر پروردگار ما مىخواست فرشتگان را از آسمان نازل مىكرد. ما به آنچه شما بدان مبعوث شدهايد ايمان نمىآوريم.
جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
مِن بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ: یعنی ہر طرف سے، آگے پیچھے سے، یا یکے بعد دیگرے مسلسل۔
أَلَّا تَعْبُدُوا: اس بات کے لیے کہ تم صرف اللہ کی عبادت کرو۔
كَافِرُونَ: انکار کرنے والے، جھٹلانے والے۔
تفسیر:
یعنی جب عاد اور ثمود کی قوموں کے پاس اللہ کے رسول آئے، جو یکے بعد دیگرے آتے رہے اور ہر سمت سے انہیں دعوت دیتے رہے، ان کی دعوت یہی تھی کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، صرف اسی کے آگے سر جھکاؤ۔ لیکن ان کافروں نے اپنے رسولوں سے کہا: اگر ہمارا رب چاہتا کہ ہم اس کی توحید کریں اور اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کریں، تو وہ ہمارے پاس فرشتے بھیجتا، نہ کہ تم جیسے انسانوں کو۔ ہم تمہارے لائے ہوئے پیغام کو ماننے سے انکار کرتے ہیں، کیونکہ تم ہمارے جیسے بشر ہو، تم میں کوئی ایسی برتری نہیں جو تمہیں رسول بنانے کا جواز فراہم کرے۔
دعوتی انداز:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کریں، ان قوموں کا حال کیا تھا؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کے لیے رسول بھیجے، لیکن انہوں نے اپنی ہٹ دھرمی اور تکبر کی وجہ سے حق کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کا بہانہ تھا کہ رسول انسان کیوں ہیں؟ فرشتے کیوں نہیں آئے؟ حالانکہ اللہ نے ہمیشہ انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا ہے، کیونکہ انسان ہی انسانوں کی رہنمائی کر سکتا ہے، ان کی زبان سمجھ سکتا ہے، اور ان کے حالات سے واقف ہوتا ہے۔
آج بھی بہت سے لوگ حق قبول کرنے سے اس لیے انکار کر دیتے ہیں کہ وہ اپنے نفس کی پیروی کرتے ہیں اور بہانے تلاش کرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ہمیں واضح کر دیا ہے کہ رسولوں کی بعثت کا مقصد صرف اللہ کی عبادت اور توحید ہے۔ جب ہمارے پاس اللہ کا پیغام پہنچ جائے، تو ہمیں بہانے نہیں بنانے چاہئیں، بلکہ دل و جان سے قبول کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہی ہماری کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔ اللہ ہمیں حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہٹ دھرمی سے بچائے۔ آمین۔
پھر دو دن میں سات آسمان بنائے اور ہر آسمان میں اس (کے کام) کا حکم بھیجا اور ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں (یعنی ستاروں) سے مزین کیا اور (شیطانوں سے) محفوظ رکھا۔ یہ زبردست (اور) خبردار کے (مقرر کئے ہوئے) اندازے ہیں
جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) ان کو مدد بھی نہ ملے گی
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔