Fa ammaa `Aadun fastak baroo fil ardi bighairul haqqi wa qaaloo man ashaddu minnaa quwwatan awalam yaraw annal laahal lazee khalaqahum Huwa ashaddu minhum quwwatanw wa kaanoo bi Aayaatinaa yajhadoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اما قوم عاد، به ناحق در روى زمين گردنكشى كردند و گفتند: چه كسى از ما نيرومندتر است؟ آيا نمىديدند كه خدايى كه آنها را آفريده است از آنها نيرومندتر است كه آيات ما را انكار مىكردند؟
جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
فَاسْتَكْبَرُوا: تکبر کیا، بڑائی حاصل کی۔
بِغَيْرِ الْحَقِّ: ناحق، بلا کسی جائز وجہ کے۔
مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً: ہم سے زیادہ طاقت والا کون ہے؟
يَجْحَدُونَ: انکار کرتے تھے، جھٹلاتے تھے۔
تفسیر:
پھر اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کا ذکر فرمایا جو حضرت ہود علیہ السلام کی قوم تھی۔ انہوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور اللہ کے بندوں پر ظلم و زیادتی کی۔ وہ اپنی طاقت اور قوت پر بہت نازاں تھے اور غرور میں مبتلا ہو کر کہتے تھے: "ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟" وہ اپنے مضبوط جسموں اور بڑی قوت پر فخر کرتے تھے، اور سمجھتے تھے کہ کوئی ان پر غالب نہیں آ سکتا۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کا جواب دیا کہ کیا انہوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ اللہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے، وہ ان سے کہیں زیادہ طاقتور ہے؟ جس نے انہیں یہ قوت دی ہے، وہ اس قوت کو چھین بھی سکتا ہے اور ان پر عذاب نازل کرنے پر قادر ہے۔ پھر فرمایا کہ وہ اللہ کی آیتوں اور نشانیوں کا انکار کرتے تھے، حالانکہ وہ جانتے تھے کہ یہ حق ہیں، لیکن پھر بھی ضد اور ہٹ دھرمی سے انہیں جھٹلاتے تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بڑا سبق ملتا ہے کہ تکبر اور غرور انسان کو ہلاکت کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ قومِ عاد کے پاس طاقت، مال اور وسائل تھے، لیکن جب انہوں نے اللہ کے سامنے سرکشی کی اور اپنی طاقت پر ناز کیا، تو اللہ نے انہیں ایسا عذاب دیا کہ ان کی وہ ساری طاقت کام نہ آئی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی کسی بھی نعمت پر نازاں نہ ہوں، بلکہ اللہ کے سامنے عاجزی اور فروتنی اختیار کریں۔ یاد رکھیں، اللہ کی طاقت سب سے بڑی ہے، اور جو بھی اس کے سامنے سرکشی کرے گا، اس کا انجام برا ہوگا۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں میں تواضع اور عاجزی کو اپنائیں، اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
جب ان کے پاس پیغمبر ان کے آگے اور پیچھے سے آئے کہ خدا کے سوا (کسی کی) عبادت نہ کرو۔ کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار چاہتا تو فرشتے اُتار دیتا سو جو تم دے کر بھیجے گئے ہو ہم اس کو نہیں مانتے
جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) ان کو مدد بھی نہ ملے گی
اور جو ثمود تھے ان کو ہم نے سیدھا رستہ دکھا دیا تھا مگر انہوں نے ہدایت کے مقابلے میں اندھا دھند رہنا پسند کیا تو ان کے اعمال کی سزا میں کڑک نے ان کو آپکڑا۔ اور وہ ذلت کا عذاب تھا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔