ترجمہ — Tafsir
ذٰلِكُم بِأَنَّكُمُ اتَّخَذْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا وَغَرَّتْكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ
معانی الفاظ:
- هُزُوًا: مذاق، ٹھٹھا، استہزاء
- غَرَّتْكُم: نے تمہیں دھوکہ دیا، فریب دیا
- لَا يُخْرَجُونَ مِنْهَا: وہ اس (آگ) سے نکالے نہیں جائیں گے
- يُسْتَعْتَبُونَ: ان سے معافی و رضامندی طلب نہیں کی جائے گی، انہیں توبہ کا موقع نہیں دیا جائے گا
تفسیر:
یہ عذاب جو آج تم پر نازل ہو رہا ہے، یہ کوئی ظلم نہیں بلکہ تمہارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کو، جو اس کی نشانیاں اور اس کی کتاب قرآن مجید ہے، مذاق اور ٹھٹھے کا موضوع بنا لیا تھا۔ تم ان پر ہنستے تھے، انہیں حقیر جانتے تھے اور ان کا استہزاء کرتے تھے۔
اور ساتھ ہی دنیا کی ظاہری چمک دمک، اس کی لذتیں اور شہوات نے تمہیں دھوکہ دیا۔ تم نے سوچا کہ یہی زندگی ہے، نہ کوئی موت کے بعد حساب ہے، نہ کوئی آخرت ہے، نہ کوئی جنت اور جہنم ہے۔ تم دنیا کی چند روزہ خوشیوں میں مگن ہو گئے اور آخرت کی ابدی زندگی کو بھول بیٹھے۔
آج جب تمہاری آنکھیں کھلی ہیں اور تم حقیقت دیکھ رہے ہو، تو تمہارے لیے کوئی راہ فرار نہیں۔ آج نہ تمہیں جہنم کی آگ سے نکالا جائے گا، نہ تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیجا جائے گا تاکہ تم نیک عمل کرو اور توبہ کرو۔ نہ تم سے یہ کہا جائے گا کہ اپنے رب کو راضی کرو، کیونکہ آج کا دن عمل کا نہیں، جزا کا دن ہے۔ آج نہ کوئی عذر قبول ہوگا، نہ کوئی توبہ، نہ کوئی معافی۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت اور عبرت ہے۔ آج ہم میں سے بہت سے لوگ اللہ کی آیات کو سن کر ہنستے ہیں، انہیں پرانے زمانے کی باتیں کہتے ہیں، یا ان پر کوئی اعتراض کرتے ہیں۔ کبھی ہم قرآن کی تلاوت کو معمولی سمجھتے ہیں، کبھی اس کے احکام کو اپنی زندگی میں لاگو کرنے میں سستی کرتے ہیں۔ یہ سب اللہ کی آیات کے ساتھ استہزاء کی صورتیں ہیں۔
اور دنیا کی محبت نے ہمیں ایسا دھوکہ دیا ہے کہ ہم آخرت کو بھول گئے ہیں۔ ہم صرف دنیا کی کامیابی کی فکر کرتے ہیں، صرف دنیا کے غم میں مبتلا ہیں، صرف دنیا کے لیے دوڑتے ہیں۔ حالانکہ یہ دنیا تو ایک لمحہ ہے، جھوٹا خواب ہے۔ اصل زندگی تو آخرت کی ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔
آج ہمارے پاس موقع ہے، ہم زندہ ہیں، ہم نے ابھی مرنا نہیں۔ ہم توبہ کر سکتے ہیں، ہم اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں، ہم نیک اعمال کر سکتے ہیں۔ یہ موقع اللہ نے ہمیں رحمت سے دیا ہے۔ آؤ ہم اس موقع سے فائدہ اٹھائیں، اپنی زندگیوں کو سنواریں، اللہ کی آیات کو دل سے قبول کریں، ان پر عمل کریں اور دنیا کی محبت کو دل سے نکال کر آخرت کی فکر کریں۔ کیونکہ وہ دن آنے سے پہلے ہی ہمیں سنور جانا ہے، جب کوئی توبہ قبول نہ ہوگی اور کوئی عذر نہ سناجائے گا۔ اللہ ہمیں اس دن کے عذاب سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 33-37 — جاثیہ
ترجمہ — جاثیہ 35
سورہ جاثیہ آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ اس لئے کہ تم نے خدا کی آیتوں کو…سورہ آیت 35/37 — جاثیہ الجاثية (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: جاثیہ سنیں, جاثیہ ترجمہ, جاثیہ mp3, جاثیہ pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








