کیا یہ زمانہٴ جاہلیت کے حکم کے خواہش مند ہیں؟ اور جو یقین رکھتے ہیں ان کے لیے خدا سے اچھا حکم کس کا ہے؟
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حُکْمَ الْجَاہِلِیَّةِ: جاہلیت کا فیصلہ، یعنی وہ فیصلے اور قوانین جو دورِ جاہلیت میں رائج تھے، جو اللہ کے نازل کردہ احکام کے خلاف تھے۔
یَبْغُونَ: وہ تلاش کرتے ہیں، چاہتے ہیں۔
لِقَوْمٍ یُوقِنُونَ: اُن لوگوں کے لیے جو یقین رکھتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں یہود اور اُن جیسے لوگوں کے بارے میں فرماتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو قبول نہیں کرتے اور اپنے نفسانی خواہشات اور جاہلی رسوم و رواج کے مطابق فیصلہ چاہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے استفہام انکاری کے انداز میں فرماتے ہیں: کیا یہ لوگ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ یعنی وہ اُس دور کے احکام کو پسند کرتے ہیں جب لوگ اللہ کے حکم سے ناآشنا تھے، شرک و بت پرستی میں مبتلا تھے، اور اپنی خواہشات اور ظلم و جبر کی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے۔
پھر اللہ تعالیٰ خود ہی جواب دیتے ہیں: اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے ہے کہ اللہ کا حکم عدل، رحمت، حکمت اور مصلحت پر مبنی ہے۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے، ظاہر و پوشیدہ سب کچھ جانتا ہے، اور اُس کا فیصلہ ہمیشہ حق اور انصاف پر ہوتا ہے۔ لیکن یہ بات صرف اُن لوگوں کو سمجھ آتی ہے جو یقین رکھتے ہیں، یعنی جو دل سے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اُس کے علم اور حکمت پر بھروسہ کرتے ہیں، اور اُس کے احکام کو بلا کسی شک و شبہ کے قبول کرتے ہیں۔
یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ ہمیں ہر معاملے میں اللہ کے حکم کو مقدم رکھنا چاہیے، چاہے وہ ذاتی خواہشات کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ جاہلیت کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی عقل، رواج، یا بڑوں کی تقلید کو حتمی مان لے، لیکن اسلام کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کا فیصلہ سب سے بڑا اور سب سے اچھا ہے۔ جو لوگ اس حقیقت کو یقین کے ساتھ سمجھ لیں، وہ کبھی اللہ کے حکم سے منہ نہیں موڑیں گے، بلکہ اُس پر راضی رہیں گے اور اُس میں ہی اپنی بھلائی تلاش کریں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کا حکم ہی سچا اور بہترین ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ مغربی قوانین، جاہلی رسوم، یا اپنی خواہشات کو اپنا فیصلہ بناتے ہیں، حالانکہ اللہ کا حکم ہی حقیقی انصاف اور سکون کی ضمانت ہے۔ جو شخص اللہ پر یقین رکھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ اللہ کا فیصلہ ہی اُس کی دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کا ضامن ہے۔ اے مسلمان! اپنے ہر معاملے کو اللہ کے حکم کے تابع کرو، کیونکہ اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں۔ یہی ایمان کی پہچان ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی اور خوشی تک پہنچاتا ہے۔
اور (اے پیغمبر!) ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے اور ان (سب) پر شامل ہے تو جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کے مطابق ان کا فیصلہ کرنا اور حق جو تمہارے پاس آچکا ہے اس کو چھوڑ کر ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا ہم نے تم میں سے ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک دستور اور طریقہ مقرر کیا ہے اور اگر خدا چاہتا تو سب کو ایک ہی شریعت پر کر دیتا مگر جو حکم اس نے تم کو دیئے ہیں ان میں وہ تمہاری آزمائش کرنی چاہتا ہے سو نیک کاموں میں جلدی کرو تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے پھر جن باتوں میں تم کو اختلاف تھا وہ تم کو بتا دے گا
اور (ہم پھر تاکید کرتے ہیں کہ) جو (حکم) خدا نے نازل فرمایا ہے اسی کے مطابق ان میں فیصلہ کرنا اور ان کی خواہشوں کی پیروی نہ کرنا اور ان سے بچتے رہنا کہ کسی حکم سے جو خدا نے تم پر نازل فرمایا ہے یہ کہیں تم کو بہکانہ دیں اگر یہ نہ مانیں تو جان لو کہ خدا چاہتا ہے کہ ان کے بعض گناہوں کے سبب ان پر مصیبت نازل کرے اور اکثر لوگ تو نافرمان ہیں
اے ایمان والو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ یہ ایک دوسرے کے دوست ہیں اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا بیشک خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
تو جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کا) مرض ہے تم ان کو دیکھو گے کہ ان میں دوڑ دوڑ کے ملے جاتے ہیں کہتے ہیں کہ ہمیں خوف ہے کہ کہیں ہم پر زمانے کی گردش نہ آجائے سو قریب ہے کہ خدا فتح بھیجے یا اپنے ہاں سے کوئی اور امر (نازل فرمائے) پھر یہ اپنے دل کی باتوں پر جو چھپایا کرتے تھے پشیمان ہو کر رہ جائیں گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔