ترجمہ — Tafsir
ہُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
معانی الفاظ:
- یَلِجُ: داخل ہونا، گھسنا (جیسے بارش کا پانی زمین میں داخل ہونا)
- یَعْرُجُ: اوپر چڑھنا، صعود کرنا (جیسے فرشتوں اور اعمال کا آسمان کی طرف جانا)
- اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ: عرش پر بلندی اختیار کی، جو اللہ کی شان کے لائق ہے، نہ کسی کیفیت کے ساتھ اور نہ تشبیہ کے ساتھ
تفسیر:
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ وہ اس پر قادر ہے کہ انہیں ایک پل میں بھی پیدا کر دے، لیکن اس نے اپنی حکمت سے انہیں چھ مرحلوں میں بنایا تاکہ بندے صبر اور حکمت کا سبق سیکھیں۔ پھر وہ اپنے عرش پر بلند ہوا، اس طرح جو اس کی عظمت اور جلال کے شایانِ شان ہے، ہم اس کی کیفیت نہیں جانتے، نہ اسے مخلوق کی بلندی سے تشبیہ دیتے ہیں۔
وہ جاننے والا ہے ہر اس چیز کو جو زمین کے اندر داخل ہوتی ہے — چاہے وہ بارش کا قطرہ ہو، بیج ہو، یا مردہ بدن جو قبر میں رکھا جاتا ہے — اور جو کچھ زمین سے باہر نکلتا ہے، جیسے نباتات، فصلیں، پھل، معدنیات اور چشمے۔ وہ جانتا ہے جو کچھ آسمان سے اترتا ہے، جیسے بارش، رحمت، وحی اور فرشتے، اور جو کچھ آسمان کی طرف چڑھتا ہے، جیسے بندوں کے اعمال، ان کی روحیں اور دعائیں۔ اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، نہ زمین کی گہرائیوں میں اور نہ آسمان کی بلندیوں میں۔
اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو — اس کے علم، قدرت اور نگرانی کے ساتھ۔ تم چاہے تنہائی میں ہو، پہاڑوں کی چوٹیوں پر، سمندروں کی گہرائیوں میں، یا شہروں کی بھیڑ میں، وہ تمہیں دیکھ رہا ہے اور تمہارے حال سے باخبر ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو مومن کو ہر لمحہ اللہ کی یاد دلاتی ہے اور اسے گناہوں سے روکتی ہے۔
اللہ تمہارے تمام اعمال کو دیکھنے والا ہے — چھوٹے ہوں یا بڑے، پوشیدہ ہوں یا ظاہر — اور وہ تمہیں ان کا بدلہ دے گا، نیکی کا بدلہ نیکی سے اور برائی کا بدلہ اس کے مطابق، یا اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت مومن کے دل میں اللہ کی عظمت اور اس کی نگرانی کا احساس پیدا کرتی ہے۔ جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ اللہ ہر وقت اس کے ساتھ ہے، اس کی ہر حرکت اور ہر خیال سے باخبر ہے، تو اس کا دل گناہوں سے ڈرتا ہے اور نیکیوں کی طرف مائل ہوتا ہے۔ یہ احساس انسان کو تنہائی میں بھی ادب سکھاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔ نیز یہ آیت اللہ کی قدرت کا منظر پیش کرتی ہے — آسمان و زمین کی تخلیق، زمین کے اندر اور باہر کے راز، آسمان سے اترنے اور چڑھنے والی چیزیں — یہ سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ اللہ ہی واحد خالق اور مدبر ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ پس اے بندے! اپنے رب کی اطاعت کرو، اس کی رحمت سے امید رکھو اور اس کے عذاب سے ڈرو، کیونکہ وہ تمہارے اعمال سے خوب واقف ہے اور تمہیں ان کا بدلہ دے کر رہے گا۔
📜 آیت 2-6 — حدید
ترجمہ — حدید 4
سورہ حدید آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن…سورہ آیت 4/29 — حدید الحديد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حدید سنیں, حدید ترجمہ, حدید mp3, حدید pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








