انعام · 138/165
ترجمہ تلفظ — انعام
وَقَالُوا هَٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَن نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ ۝١٣٨
Wa qaaloo haaziheee an`aamunw wa harsun hijrun laa yat`amuhaaa illaa man nashaaa`u biza`mihim wa an`aamun hurrimat zuhooruhaa wa an`aamul laa yazkuroonas mal laahi `alaihaf tiraaa`an `alaih; sa yajzeehim bimaa kaanoo yaftaroon
📖 اردو ترجمہ
اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حِجر: حرام، ممنوع۔
  • بزعمهم: اپنے جھوٹے دعوے اور گمان کی بنا پر۔
  • حُرِّمَت ظُہورُہا: جن کی پیٹھیں (سواری اور بوجھ ڈھونے کے لیے) حرام قرار دی گئیں۔
  • افتراءً: اللہ پر جھوٹ باندھ کر، بہتان تراش کر۔

تفسیر آیت:

یہ آیت ان مشرکینِ عرب کے اُس باطل اور من گھڑت نظام کی نشاندہی کرتی ہے جو انہوں نے اپنے اوہام اور جاہلی رسوم کی بنیاد پر تراش رکھا تھا۔ وہ کہتے تھے: "یہ جانور اور یہ کھیتیاں ممنوع اور حرام ہیں، انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم خود چاہیں" — یعنی انہوں نے اپنے بتوں کے خادموں اور اپنے مخصوص لوگوں کے علاوہ سب کو ان چیزوں سے روک دیا تھا، حالانکہ یہ چیزیں اللہ نے حلال کی تھیں۔ یہ سب کچھ ان کا اپنا جھوٹا دعویٰ تھا، اللہ کی طرف سے کوئی حکم نہیں تھا۔

پھر وہ کچھ جانوروں کو "بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حامی" کہہ کر ان کی پیٹھوں کو حرام قرار دیتے تھے، یعنی ان پر نہ سواری کرتے، نہ بوجھ لادتے، اور نہ انہیں کسی کام میں لاتے۔ یہ محض ان کی خود ساختہ عبادت اور بتوں کی تعظیم کا ایک ذریعہ تھا۔

اور کچھ جانوروں کے بارے میں وہ اللہ کا نام نہیں لیتے تھے، بلکہ انہیں اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے، اور یہ سب کچھ وہ اللہ پر جھوٹ باندھ کر کرتے تھے، گویا یہ حکم اللہ کی طرف سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس افتراء اور جھوٹ کا سخت جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ انہیں ان کے افتراء کا پورا بدلہ دے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دین میں کوئی بھی چیز حلال یا حرام کرنے کا اختیار صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کسی چیز کو حرام یا حلال قرار دے۔ مشرکین نے اپنے اوہام کی بنیاد پر جو رسوم بنائی تھیں، اللہ نے انہیں سختی سے رد کیا۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنی جاہلی روایات اور بے بنیاد عقائد کو دین کا حصہ سمجھ بیٹھتے ہیں، حالانکہ قرآن اور سنت ہی ہمارے لیے فیصلہ کن ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ کے حکم کو مقدم رکھیں، اور کسی بھی خود ساختہ قاعدے کو دین پر فوقیت نہ دیں۔ یہی تقویٰ اور کامیابی کی راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 136-140 — انعام

136وَجَعَلُوا لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالْأَنْعَامِ نَصِيبًا فَقَالُوا هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَائِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَائِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَائِهِمْ ۗ سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
اور (یہ لوگ) خدا ہی کی پیدا کی ہوئی چیزوں یعنی کھیتی اور چوپایوں میں خدا کا بھی ایک حصہ مقرر کرتے ہیں اور اپنے خیال (باطل) سے کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) تو خدا کا اور یہ ہمارے شریکوں (یعنی بتوں) کا تو جو حصہ ان کے شریکوں کا ہوتا ہے وہ تو خدا کی طرف نہیں جا سکتا اور جو حصہ خدا کا ہوتا ہے وہ ان کے شریکوں کی طرف جا سکتا ہے یہ کیسا برا انصاف ہے
137وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَادِهِمْ شُرَكَاؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ
138وَقَالُوا هَٰذِهِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَا إِلَّا مَن نَّشَاءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَامٌ لَّا يَذْكُرُونَ اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهَا افْتِرَاءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا يَفْتَرُونَ
اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا
139وَقَالُوا مَا فِي بُطُونِ هَٰذِهِ الْأَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰ أَزْوَاجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَاءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
140قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ
جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
138آیت

ترجمہ — انعام 138

سورہ انعام آیت 138 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ…

سورہ آیت 138/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 136–140. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں