Wa qaaloo maa fee butooni haazihil an`aami khaalisatul lizukoorinaa wa muharramun `alaaa azwaajinaa wa iny yakum maitatan fahum feehi shurakaaa`; sa yajzeehim wasfahum; innahoo Hakeemun `Aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و گفتند: آنچه در شكم اين چارپايان است براى مردان ما حلال و براى زنانمان حرام است، و اگر مردار باشد زن و مرد در آن شريكند. خدا به سبب اين گفتار مجازاتشان خواهد كرد. هر آينه او حكيم و داناست.
الْأَنْعَامِ: مویشی، خاص طور پر اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ۔
خَالِصَةٌ: خالص، صرف مخصوص لوگوں کے لیے۔
أَزْوَاجِنَا: ہماری بیویاں (یعنی عورتیں)۔
مَيْتَةً: مردہ (جو بچہ مرا ہوا پیدا ہو)۔
شُرَكَاءُ: شریک، برابر حصہ دار۔
سَيَجْزِيهِمْ: وہ انہیں سزا دے گا۔
وَصْفَهُمْ: ان کے اس بیان اور جھوٹے قول کی وجہ سے۔
تفسیر:
یہ آیت مشرکینِ عرب کے ایک اور باطل اور من گھڑت دستور کی نشاندہی کرتی ہے، جو انہوں نے اپنی طرف سے اللہ پر بہتان باندھ کر وضع کر رکھا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ جو بچہ ان مخصوص مویشیوں (جنہیں وہ خود ساختہ طور پر بحیرہ، سائبہ وغیرہ کہہ کر اللہ کے نام پر چھوڑ دیتے تھے) کے پیٹ میں ہوتا ہے، اگر وہ زندہ پیدا ہو تو وہ صرف ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ہے۔ لیکن اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو اس میں مرد اور عورت دونوں برابر کے شریک ہیں، یعنی سب اسے کھا سکتے ہیں۔
یہ کتنی بڑی جہالت اور اللہ پر افترا تھا! وہ اپنی عقل سے حلال و حرام کے قوانین بنا رہے تھے، حالانکہ حلال و حرام کا اختیار صرف اللہ کو ہے۔ ان کا یہ رویہ نہ صرف عورتوں کی توہین تھا بلکہ اللہ کی شریعت کے خلاف بھی تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس قول کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ انہیں ان کے اس جھوٹے وصف اور بہتان کی سزا ضرور دے گا۔ اللہ حکیم ہے، یعنی وہ ہر کام حکمت سے کرتا ہے، اور علیم ہے، یعنی وہ ان کے دلوں کے رازوں اور ان کی تمام حرکات سے خوب واقف ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ حلال و حرام کا معاملہ صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سپرد ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اپنی خواہش یا رواج کی بنیاد پر کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے۔ آج بھی بہت سے لوگ اپنی من گھڑت روایات اور رسم و رواج کو دین کا حصہ بنا لیتے ہیں، حالانکہ یہ اللہ پر بہتان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر معاملے میں قرآن و سنت کو معیار بنائیں، اور اپنے معاشرے کی ان رسموں کو ختم کریں جو اللہ کی شریعت کے خلاف ہیں۔ یاد رکھیں، اللہ حکیم اور علیم ہے، وہ ہر اس شخص کو سزا دے گا جو اس کے نام پر جھوٹ باندھتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دین کو خالص اللہ کی طرف سے نازل کردہ شکل میں قبول کریں، نہ کہ اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالی ہوئی شکل میں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، اور یہی اللہ کی رحمت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
اسی طرح بہت سے مشرکوں کو ان کے شریکوں نے ان کے بچوں کو جان سے مار ڈالنا اچھا کر دکھایا ہے تاکہ انہیں ہلاکت میں ڈال دیں اور ان کے دین کو ان پر خلط ملط کر دیں اور اگر خدا چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو ان کو چھوڑ دو کہ وہ جانیں اور ان کا جھوٹ
اور اپنے خیال سے یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ چارپائے اور کھیتی منع ہے اسے اس شخص کے سوا جسے ہم چاہیں کوئی نہ کھائے اور (بعض) چارپائے ایسے ہیں کہ ان کی پیٹ پر چڑھنا منع کر دیا گیا ہے اور بعض مویشی ایسے ہیں جن پر (ذبح کرتے وقت) خدا کا نام نہیں لیتے سب خدا پر جھوٹ ہے وہ عنقریب ان کو ان کے جھوٹ کا بدلہ دے گا
اور یہ بھی کہتے ہیں کہ جو بچہ ان چارپایوں کے پیٹ میں ہے وہ خاص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری عورتوں کو (اس کا کھانا) حرام ہے اور اگر وہ بچہ مرا ہوا ہو تو سب اس میں شریک ہیں (یعنی اسے مرد اور عورتیں سب کھائیں) عنقریب خدا ان کو ان کے ڈھکوسلوں کی سزا دے گا بےشک وہ حکمت والا خبردار ہے
جن لوگوں نے اپنی اولاد کو بیوقوفی سے بے سمجھی سے قتل کیا اور خدا پر افترا کر کے اس کی عطا فرمائی کی ہوئی روزی کو حرام ٹہرایا وہ گھاٹے میں پڑ گئے وہ بےشبہ گمراہ ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں
اور خدا ہی تو ہے جس نے باغ پیدا کئے چھتریوں پر چڑھائے ہوئے بھی اور جو چھتریوں پر نہیں چڑھائے ہوئے وہ بھی اور کھجور اور کھیتی جن کے طرح طرح کے پھل ہوتے ہیں اور زیتون اور انار جو (بعض باتوں میں) ایک دوسرے سے ملتے ہیں جب یہ چیزیں پھلیں تو ان کے پھل کھاؤ اور جس دن (پھل توڑو اور کھیتی) کاٹو تو خدا کا حق بھی اس میں سے ادا کرو اور بےجا نہ اڑاؤ کہ خدا بیجا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔