(اور اس لیے اتاری ہے) کہ (تم یوں نہ) کہو کہ ہم سے پہلے دو ہی گروہوں پر کتابیں اتری تھیں اور ہم ان کے پڑھنے سے (معذور اور) بےخبر تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
طَائِفَتَیْنِ: دو گروہ (یہود و نصاریٰ)
دِرَاسَتِهِمْ: ان کی تلاوت، پڑھنے اور مطالعہ سے
لَغَافِلِینَ: یقیناً بے خبر اور لاپرواہ
تفسیر:
اے کفارِ عرب! ہم نے یہ قرآن اس لیے نازل کیا ہے تاکہ تم یہ عذر پیش نہ کر سکو کہ ہماری طرف کوئی کتاب نہیں آئی۔ تمہارا یہ کہنا کہ "کتاب تو صرف ہم سے پہلے دو گروہوں (یہود و نصاریٰ) پر نازل ہوئی تھی، اور ہم تو ان کے مطالعے اور پڑھنے سے بالکل بے خبر تھے، نہ ہم نے ان کی کتابیں پڑھیں اور نہ ہی ان کا علم حاصل کیا" — یہ عذر اب قبول نہیں کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کفارِ عرب کے اس ممکنہ اعتراض کا ازالہ فرمایا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر اللہ کسی قوم پر کتاب نازل کرتا ہے تو وہ اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) ہیں، ہم تو ان کی زبان نہیں جانتے، ان کی تلاوت سے ہم واقف نہیں، ہم پر کوئی کتاب نہیں آئی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے یہ قرآن تمہاری اپنی زبان میں نازل کیا تاکہ تمہارے پاس کوئی عذر باقی نہ رہے۔ اب تمہارے پاس واضح کتاب موجود ہے، جو تمہاری اپنی زبان میں ہے، جسے تم پڑھ سکتے ہو اور سمجھ سکتے ہو۔
یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے کہ اس نے قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا، تاکہ عرب کے لوگ اسے آسانی سے سمجھ سکیں اور ان پر حجت قائم ہو جائے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ جب ہمارے پاس اللہ کا کلام موجود ہے تو ہمیں اسے پڑھنا چاہیے، اس پر عمل کرنا چاہیے، اور کسی بھی قسم کے عذر سے بچنا چاہیے۔
آج بھی بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ ہم عربی نہیں جانتے، ہم قرآن نہیں سمجھتے، ہمارے پاس وقت نہیں — لیکن اللہ نے قرآن کو آسان بنا کر نازل کیا ہے، اور اس کی تلاوت اور سمجھنے کے لیے ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن وہ کتاب ہے جو قیامت تک کے لیے ہدایت ہے، اور اسے چھوڑ کر کوئی عذر قابلِ قبول نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(ہاں) پھر (سن لو کہ) ہم نے موسیؑ کو کتاب عنایت کی تھی تاکہ ان لوگوں پر جو نیکوکار ہیں نعمت پوری کر دیں اور (اس میں) ہر چیز کا بیان (ہے) اور ہدایت (ہے) اور رحمت ہے تاکہ (ان کی امت کے) لوگ اپنے پروردگار کے رُوبرو حاضر ہونے کا یقین کریں
یا (یہ نہ) کہو کہ اگر ہم پر بھی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان لوگوں کی نسبت کہیں سیدھے رستے پر ہوتے سو تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے دلیل اور ہدایت اور رحمت آ گئی ہے تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو خدا کی آیتوں کی تکذیب کرے اور ان سے (لوگوں کو) پھیرے جو لوگ ہماری آیتوں سے پھیرتے ہیں اس پھیرنے کے سبب ہم ان کو برے عذاب کی سزا دیں گے
یہ اس کے سوا اور کس بات کے منتظر ہیں کہ ان کے پاس فرشتے آئیں یا خود تمہارا پروردگار آئے یا تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آئیں (مگر) جس روز تمہارے پروردگار کی کچھ نشانیاں آ جائیں گی تو جو شخص پہلے ایمان نہیں لایا ہوگا اس وقت اسے ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دے گا یا اپنے ایمان (کی حالت) میں نیک عمل نہیں کئے ہوں گے (تو گناہوں سے توبہ کرنا مفید نہ ہوگا اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ تم بھی انتظار کرو ہم بھی انتظار کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔