Wa an Huwal lazee khalaqas samaawaati wal arda bilhaqq; wa Yawma yaqoolu kun fa yakoon; Qawluhul haqq; wa lahul mulku Yawma yunfakhu fis Soor; `Aalimul Ghaibi wash shahaadah; wa Huwal Hakeemul Khabeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اوست آنكه آسمانها و زمين را به حق بيافريد. و روزى كه بگويد: موجود شو، پس موجود مىشود. گفتار او حق است. و در آن روز كه در صور دميده شود فرمانروايى از آن اوست. داناى نهان و آشكار است و او حكيم و آگاه است.
اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بِالْحَقِّ: حق کے ساتھ، یعنی حکمت اور عدل کے ساتھ۔
کُن فَیَکُونُ: ”ہو جا“، پس وہ ہو جاتا ہے۔
الصُّور: وہ صور (نرسنگا) جس میں اسرافیل علیہ السلام پھونکیں گے۔
الْغَیْبِ وَالشَّهَادَةِ: پوشیدہ اور ظاہر، یعنی جو آنکھوں سے اوجھل ہو اور جو سامنے ہو۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا، یعنی اس تخلیق میں کوئی بے مقصدیت نہیں، بلکہ ہر چیز حکمت اور عدل پر قائم ہے۔ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو صرف ”کن“ (ہو جا) کہتا ہے، اور وہ چیز فوراً وجود میں آجاتی ہے۔ قیامت کے دن بھی جب وہ لوگوں کو زندہ کرنے کا حکم دے گا، تو سب قبروں سے نکل آئیں گے۔ اس کا قول ہی حق ہے، یعنی اس کا وعدہ اور وعید دونوں سچے ہیں، ان میں کوئی خلاف نہیں ہو سکتا۔
اس دن جب صور میں پھونک ماری جائے گی، تو تمام بادشاہی اور حکومتیں ختم ہو جائیں گی، اور صرف اللہ ہی کی ملکیت ہوگی۔ وہی ہے جو غیب اور شہادت یعنی پوشیدہ اور ظاہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ وہ حکیم ہے، یعنی ہر کام حکمت سے کرتا ہے، اور خبیر ہے، یعنی اس کی نگاہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں، چاہے وہ دلوں کے بھید ہوں یا کائنات کے راز۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں اللہ کی عظمت اور قدرت کا احساس دلاتی ہے۔ جس ذات نے اتنی بڑی کائنات کو پیدا کیا، اس کے لیے قیامت کے دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کا حکم ”کن“ فوراً پورا ہوتا ہے، تو ہمیں اپنی زندگی میں بھی اللہ کے حکموں پر فوراً عمل کرنا چاہیے۔ اگر ہم اللہ کی اطاعت کریں گے، تو وہ ہمیں اس دن کی پریشانیوں سے محفوظ رکھے گا جب اس کے سوا کوئی بادشاہ نہ ہوگا۔ اللہ ہر چیز سے باخبر ہے، وہ جانتا ہے کہ ہم دن میں کیا کرتے ہیں اور رات میں کیا، وہ جانتا ہے جو ہم چھپاتے ہیں اور جو ظاہر کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل کو صاف رکھیں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اللہ کی رحمت کے طالب بنیں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اس عظیم دن کی ذلت سے بچائے گا۔
کہو۔ کیا ہم خدا کے سوا ایسی چیز کو پکاریں جو نہ ہمارا بھلا کرسکے نہ برا۔ اور جب ہم کو خدا نے سیدھا رستہ دکھا دیا تو (کیا) ہم الٹے پاؤں پھر جائیں؟ (پھر ہماری ایسی مثال ہو) جیسے کسی کو جنات نے جنگل میں بھلا دیا ہو (اور وہ) حیران (ہو رہا ہو) اور اس کے کچھ رفیق ہوں جو اس کو رستے کی طرف بلائیں کہ ہمارے پاس چلا آ۔ کہہ دو کہ رستہ تو وہی ہے جو خدا نے بتایا ہے۔ اور ہمیں تو یہ حکم ملا ہے کہ ہم خدائے رب العالمین کے فرمانبردار ہوں
اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔