انعام · 74/165
ترجمہ تلفظ — انعام
۞ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ۝٧٤
Wa iz qaala Ibraaheemu li abeehi Aazara a-tattakhizu asnaaman aalihatan inneee araaka wa qawmaka fee dalaalim mmubeen
📖 اردو ترجمہ
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آزر: حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کا نام۔ بعض مفسرین کے نزدیک یہ ان کے چچا کا نام تھا، لیکن جمہور مفسرین کے مطابق یہ ان کے والد کا نام ہے۔
  • أَصْنَامًا: بت، وہ مورتیاں جنہیں تراش کر بنایا جاتا تھا۔
  • آلِهَةً: معبود، جنہیں خدا کا درجہ دے کر پوجا جائے۔
  • ضَلَالٍ مُّبِينٍ: کھلی گمراہی، صریح اور واضح گمراہی۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ واقعہ بیان فرما رہے ہیں جب انہوں نے اپنے باپ آزر کو دعوتِ توحید دی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے کہا: "کیا تم ان بتوں کو معبود بنا رہے ہو؟ کیا تم ان پتھر کی مورتیوں کو خدا کا درجہ دے کر ان کی عبادت کرتے ہو؟" یہ سوال دراصل ان کی عقل کو جھنجھوڑنے کے لیے تھا، کیونکہ یہ بت نہ خود کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں، نہ نقصان، نہ وہ سن سکتے ہیں، نہ دیکھ سکتے ہیں، نہ کسی کی مدد کر سکتے ہیں۔

پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد کو صاف صاف بتایا: "میں تمہیں اور تمہاری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔" یعنی تم لوگ سیدھے راستے سے بھٹک گئے ہو، تمہاری یہ عبادت بالکل باطل ہے، کیونکہ عبادت صرف اس ذات کے لیے ہے جس نے یہ کائنات بنائی، جس نے تمہیں پیدا کیا، جس نے تمہیں رزق دیا۔ یہ بت تو تمہاری اپنی ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزیں ہیں، انہیں معبود بنانا کھلی حماقت اور صریح گمراہی ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ اندازِ دعوت بہت ہی حکمت والا تھا۔ انہوں نے نہ صرف اپنے والد کو سمجھایا بلکہ ان کی قوم کو بھی متنبہ کیا۔ انہوں نے نرمی سے لیکن بڑی وضاحت کے ساتھ حق بات کہی، چاہے سننے والا ان کا اپنا باپ ہی کیوں نہ ہو۔ یہ ہمارے لیے بہترین سبق ہے کہ حق بات کہنے میں کسی سے رعایت نہیں کرنی چاہیے، چاہے مخاطب قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:

  1. حق کہنے کی ہمت: حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے باپ کو حق کہا، حالانکہ باپ کا احترام بہت بڑا ہے، لیکن جب بات شرک اور توحید کی ہو تو حق کو مقدم رکھنا چاہیے۔
  2. نرمی کے ساتھ دعوت: انہوں نے اپنے والد کو "یا أبت" (اے میرے باپ) کہہ کر مخاطب کیا، یعنی محبت اور نرمی کے ساتھ دعوت دی، نہ کہ سختی اور طعن سے۔
  3. توحید کی اہمیت: شرک سب سے بڑا ظلم ہے، اور توحید ہی وہ اصل پیغام ہے جس کے لیے تمام انبیاء آئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا مرکز یہی تھا۔
  4. کھلی گمراہی کی نشاندہی: انہوں نے اپنے والد اور قوم کو صاف صاف بتایا کہ تم کھلی گمراہی میں ہو، تاکہ وہ اپنی غلطی کو پہچان سکیں۔

آج بھی ہمیں اسی انداز میں دعوت دینی چاہیے — نرمی، حکمت، اور وضاحت کے ساتھ، بغیر کسی خوف کے، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 72-76 — انعام

72وَأَنْ أَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَاتَّقُوهُ ۚ وَهُوَ الَّذِي إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ
اور یہ (بھی) کہ نماز پڑھتے رہو اور اس سے ڈرتے رہو۔ اور وہی تو ہے جس کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے
73وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۖ وَيَوْمَ يَقُولُ كُن فَيَكُونُ ۚ قَوْلُهُ الْحَقُّ ۚ وَلَهُ الْمُلْكُ يَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ ۚ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
اور وہی تو ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو تدبیر سے پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ فرمائے گا کہ ہو جا تو (حشر برپا) ہوجائے گا ۔ اس کا ارشاد برحق ہے۔ اور جس دن صور پھونکا جائے گا (اس دن) اسی کی بادشاہت ہوگی۔ وہی پوشیدہ اور ظاہر (سب) کا جاننے والا ہے اور وہی دانا اور خبردار ہے
74۞ وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ آزَرَ أَتَتَّخِذُ أَصْنَامًا آلِهَةً ۖ إِنِّي أَرَاكَ وَقَوْمَكَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ
اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب ابراہیم نے اپنے باپ آزر سے کہا کہ تم بتوں کو کیا معبود بناتے ہو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تم اور تمہاری قوم صریح گمراہی میں ہو
75وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ
اور ہم اس طرح ابراہیم کو آسمانوں اور زمین کے عجائبات دکھانے لگے تاکہ وہ خوب یقین کرنے والوں میں ہوجائیں
76فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ
(یعنی) جب رات نے ان کو (پردہٴ تاریکی سے) ڈھانپ لیا (تو آسمان میں) ایک ستارا نظر پڑا۔ کہنے لگے یہ میرا پروردگار ہے۔ جب وہ غائب ہوگیا تو کہنے لگے کہ مجھے غائب ہوجانے والے پسند نہیں
انعامقرآن فہرست
165آیت
مکیRevelation
74آیت

ترجمہ — انعام 74

سورہ انعام آیت 74 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب…

سورہ آیت 74/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 72–76. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں