جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
مثَل كسانى كه تورات به آنها داده شده و بدان عمل نمىكنند مثَل آن خر است كه كتابهايى را حمل مىكند. بد مثَلى است مثَل مردمى كه آيات خدا را دروغ مىشمردهاند. و خدا ستمكاران را هدايت نمىكند.
جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
حُمِّلُوا التَّوْرَاةَ: ان پر تورات کا بار رکھا گیا، یعنی انہیں تورات پڑھنے اور اس پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا۔
لَمْ يَحْمِلُوهَا: انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، یعنی اس کے احکام کو اپنے اوپر لازم نہیں کیا۔
أَسْفَارًا: بڑی بڑی کتابیں (تورات کے نسخے یا صحیفے)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ان یہودیوں کی مثال بیان فرمائی ہے جنہیں تورات دی گئی تھی اور ان پر اس پر عمل کرنا لازم کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اس پر عمل نہ کرکے اسے بالکل نظرانداز کردیا۔ ان کی مثال اس گدھے جیسی ہے جو بڑی بڑی کتابیں اٹھائے ہوئے ہو، لیکن اسے ان کتابوں کے علم سے کوئی سروکار نہ ہو۔ گدھا صرف ان کا بوجھ اٹھاتا ہے، نہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں کیا لکھا ہے، نہ وہ ان سے کوئی فائدہ اٹھاتا ہے۔ بالکل اسی طرح یہودی تورات کو پڑھتے تھے، اسے حفظ کرتے تھے، لیکن اس پر عمل نہیں کرتے تھے، چنانچہ وہ اس کے نور اور ہدایت سے محروم رہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر وہ تورات پر سچے دل سے عمل کرتے تو انہیں اس میں نبی کریم ﷺ کی نشانیاں اور آپ کی آمد کی بشارت ملتی، اور وہ آپ پر ایمان لے آتے۔ لیکن انہوں نے اپنے علم کے باوجود حق کو جھٹلایا اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان لوگوں کی مثال بہت بری ہے جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا اور ان سے فائدہ نہ اٹھایا۔ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا، یعنی جو لوگ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں، حق کو جانتے بوجھتے رد کردیتے ہیں، انہیں اللہ توفیق نہیں دیتا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ علم صرف پڑھنے اور حفظ کرنے کا نام نہیں، بلکہ علم کا اصل مقصد عمل ہے۔ جو شخص علم حاصل کرے اور اس پر عمل نہ کرے، وہ اس گدھے کی مانند ہے جو قیمتی کتابیں اٹھائے تو ہے لیکن ان سے محروم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن و سنت کو پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں۔ عمل کے بغیر علم ہمارے لیے حجت بن جائے گا، نہ کہ باعث نجات۔ اللہ تعالیٰ ہمیں علم نافع اور عمل صالح کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو علم رکھنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کرتے۔ آمین۔
جن لوگوں (کے سر) پر تورات لدوائی گئی پھر انہوں نے اس (کے بار تعمیل) کو نہ اٹھایا ان کی مثال گدھے کی سی ہے جن پر بڑی بڑی کتابیں لدی ہوں۔ جو لوگ خدا کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ان کی مثال بری ہے۔ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔