اعراف · 167/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
وَإِذۡ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَن يَسُومُهُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ  ۝١٦٧
Wa iz ta azzana Rabbuka la yab`asannna `alaihim ilaa Yawmil Qiyaamati mai yasoomuhum sooo`al `azaab; inna Rabbaka lasaree`ul `iqaab; wa innahoo la Ghafoorur Raheem
📖 اردو ترجمہ
(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَأَذَّنَ: اعلان کیا، صاف صاف بتا دیا۔
  • لَيَبْعَثَنَّ: ضرور بھیجے گا، مسلّط کرے گا۔
  • يَسُومُهُمْ: انہیں چکھائے گا، ان پر مسلّط کرے گا۔
  • سُوءَ الْعَذَابِ: برا عذاب، ذلت اور رسوائی کا عذاب۔

تفسیر:

اے نبی! اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے یہ صاف اور واضح اعلان فرما دیا تھا کہ وہ بنی اسرائیل (یہود) پر قیامت تک ایسے لوگوں کو مسلّط کرتا رہے گا جو انہیں برے عذاب میں مبتلا کریں گے، انہیں ذلیل و خوار کریں گے، ان پر سختیاں ڈھائیں گے اور انہیں رسوائی کا مزہ چکھائیں گے۔ یہ وہی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم و فساد اور نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر مقدر فرمائی۔ چنانچہ تاریخ گواہ ہے کہ بخت نصر نے ان کے گھر تباہ کیے، انہیں قتل کیا، ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنایا، اور پھر ان پر جزیہ اور ذلت کی زندگی مسلّط رہی۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے دو صفات بیان فرماتا ہے: "بے شک تیرا رب جلد سزا دینے والا ہے" یعنی جو اس کی نافرمانی کرے اور اس کے احکام سے سرتابی کرے، اسے وہ دنیا ہی میں پکڑ لیتا ہے اور اسے سخت سزا دیتا ہے، جیسا کہ یہود کے ساتھ ہوا۔ "اور بے شک وہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے" یعنی جو لوگ اپنے گناہوں سے توبہ کر لیں، اپنے حال پر نادم ہوں اور اللہ کی طرف رجوع کریں، اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دیتا ہے اور ان پر رحمت کی بارش کرتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے دو باتیں ایک ساتھ بیان فرمائیں: ایک طرف عذاب کا ڈر ہے کہ نافرمانی کا انجام ذلت اور رسوائی ہے، اور دوسری طرف رحمت کی امید ہے کہ توبہ کرنے والوں کے لیے مغفرت اور رحمت کا دروازہ کھلا ہے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا فضل ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا بھی ہے تاکہ وہ گناہوں سے باز آئیں، اور امید دلاتا ہے تاکہ وہ اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے عذاب سے ڈریں اور اس کی رحمت سے امید رکھیں، اور اپنی زندگیوں کو اس کے احکام کے مطابق ڈھالیں۔ یاد رکھیں، اللہ کی پکڑ بہت سخت ہے، لیکن اس کی رحمت بھی بے حد وسیع ہے۔ جو بھی خلوص دل سے توبہ کرے گا، اللہ اسے ضرور معاف فرمائے گا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 165-169 — اعراف

165فَلَمَّا نَسُواْ مَا ذُكِّرُواْ بِهِۦٓ أَنجَيۡنَا ٱلَّذِينَ يَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلسُّوٓءِ وَأَخَذۡنَا ٱلَّذِينَ ظَلَمُواْ بِعَذَابِۭ بَـِٔيسِۭ بِمَا كَانُواْ يَفۡسُقُونَ 
جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے
166فَلَمَّا عَتَوۡاْ عَن مَّا نُهُواْ عَنۡهُ قُلۡنَا لَهُمۡ كُونُواْ قِرَدَةً خَٰسِـِٔينَ 
غرض جن اعمال (بد) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پراصرار اور ہمارے حکم سے) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ
167وَإِذۡ تَأَذَّنَ رَبُّكَ لَيَبۡعَثَنَّ عَلَيۡهِمۡ إِلَىٰ يَوۡمِ ٱلۡقِيَٰمَةِ مَن يَسُومُهُمۡ سُوٓءَ ٱلۡعَذَابِۗ إِنَّ رَبَّكَ لَسَرِيعُ ٱلۡعِقَابِ وَإِنَّهُۥ لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ 
(اور اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انہیں بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بےشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے
168وَقَطَّعۡنَٰهُمۡ فِي ٱلۡأَرۡضِ أُمَمًاۖ مِّنۡهُمُ ٱلصَّٰلِحُونَ وَمِنۡهُمۡ دُونَ ذَٰلِكَۖ وَبَلَوۡنَٰهُم بِٱلۡحَسَنَٰتِ وَٱلسَّيِّـَٔاتِ لَعَلَّهُمۡ يَرۡجِعُونَ 
اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کرکے ملک میں منتشر کر دیا۔ بعض ان میں سے نیکوکار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں، تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں
169فَخَلَفَ مِنۢ بَعۡدِهِمۡ خَلۡفٌ وَرِثُواْ ٱلۡكِتَٰبَ يَأۡخُذُونَ عَرَضَ هَٰذَا ٱلۡأَدۡنَىٰ وَيَقُولُونَ سَيُغۡفَرُ لَنَا وَإِن يَأۡتِهِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُهُۥ يَأۡخُذُوهُۚ أَلَمۡ يُؤۡخَذۡ عَلَيۡهِم مِّيثَٰقُ ٱلۡكِتَٰبِ أَن لَّا يَقُولُواْ عَلَى ٱللَّهِ إِلَّا ٱلۡحَقَّ وَدَرَسُواْ مَا فِيهِۗ وَٱلدَّارُ ٱلۡأٓخِرَةُ خَيۡرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَۚ أَفَلَا تَعۡقِلُونَ 
پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال ومتاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دیئے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے۔ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اس کو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پرہیزگاروں کے لیے بہتر ہے کیا تم سمجھتے نہیں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
167آیت

ترجمہ — اعراف 167

سورہ آیت 167/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 165–169. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں