Wa in tad`oohum ilalhudaa laa yattabi`ookum; sawaaa`un `alaikum a-da`awtumoohum am antum saamitoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اگر تم ان کو سیدھے رستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں۔ تمہارے لیے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے ہو رہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اگر آنها را به راه هدايت بخوانى، از شما پيروى نخواهند كرد. برايتان يكسان است چه دعوتشان كنيد و چه خاموشى پيشه سازيد.
🎧 سنیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَدْعُوهُمْ: تم انہیں بلاؤ، پکارو
الْهُدَىٰ: ہدایت، سیدھا راستہ، اسلام
لَا يَتَّبِعُوكُمْ: وہ تمہاری پیروی نہیں کریں گے
سَوَاءٌ: برابر، یکساں
صَامِتُونَ: خاموش رہنے والے
تفسیر:
اے مشرکو! تم جن بتوں اور معبودوں کو اللہ کے سوا پوجتے ہو، اگر تم انہیں ہدایت کی طرف بلاؤ تو وہ نہ تمہاری آواز سن سکتے ہیں اور نہ تمہاری پیروی کر سکتے ہیں۔ یہ بت تو بےجان جمادات ہیں، نہ ان میں سننے کی صلاحیت ہے، نہ بولنے کی، نہ سمجھنے کی۔ تم انہیں پکارو یا خاموش رہو، ان کے لیے یکساں ہے۔ وہ نہ تمہیں کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان۔
یاد رکھو! یہ معبودِ باطل تمہیں کبھی ہدایت کی راہ نہیں دکھا سکتے، نہ خود ہدایت یافتہ ہیں اور نہ کسی کو ہدایت دے سکتے ہیں۔ ان کی عبادت سراسر گمراہی اور جہالت ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا غور کرو، کیا کوئی عقل مند انسان ایسی چیز کی عبادت کرتا ہے جو نہ سن سکے، نہ بول سکے، نہ مدد کر سکے؟ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم اس کی نشانیوں پر غور کریں اور صرف اسی کی عبادت کریں جو حقیقت میں سننے والا، دیکھنے والا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ اللہ جو ہماری ہر پکار سنتا ہے، ہر دعا قبول کرتا ہے، وہی ہمارا حقیقی معبود ہے۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو شرک سے پاک کریں اور خالص توحید پر قائم رہیں، کیونکہ یہی کامیابی اور نجات کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلالو اور میرے بارے میں (جو) تدبیر (کرنی ہو) کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو (پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔