ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نصر: مدد دینا، اعانت کرنا، حفاظت کرنا۔
- انفسهم: اپنے آپ کو۔
تفسیر:
یہ آیت ان مشرکین کے اس عقیدے کی تردید کر رہی ہے جو بتوں کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے اور ان سے مدد، حفاظت اور شفاعت کی امید رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ معبودِ باطل (بت اور صنم) نہ تو اپنے عبادت کرنے والوں کی کوئی مدد کر سکتے ہیں، اور نہ ہی اپنی جان کا بھی کچھ بچاؤ کر سکتے ہیں۔ اگر ان پر کوئی چیز گر جائے، ٹوٹ جائیں، یا کوئی نقصان پہنچے تو وہ خود کو بھی نہیں بچا سکتے۔
یہ بت تو بے جان ہیں، انہیں تو اپنے پوجنے والوں کی ضرورت ہے کہ انہیں اٹھائیں، صاف کریں، حفاظت کریں۔ پھر ایسے معبودِ عاجز کو اللہ کے ساتھ شریک بنانا کس قدر جہالت اور حماقت ہے! جو معبود اپنی حفاظت نہ کر سکے، وہ اپنے بندوں کی کیسے حفاظت کرے گا؟ جو خود محتاج ہو، وہ کسی کی حاجت کیسے روائی کرے گا؟
یہاں اللہ تعالیٰ اپنی کامل قدرت اور بے نیازی کی طرف اشارہ فرما رہا ہے کہ وہی واحد معبودِ حقیقی ہے جو اپنے بندوں کی ہر حال میں مدد کرتا ہے، انہیں مصیبتوں سے نجات دیتا ہے، اور ان کی حاجات پوری کرتا ہے۔ وہ خود بے نیاز ہے، اسے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، بلکہ تمام مخلوقات اسی کی محتاج ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! ذرا سوچیں، جب ہم اپنی زندگی میں کسی مشکل یا پریشانی میں کسی انسان سے مدد مانگتے ہیں تو وہ بھی تو ایک کمزور مخلوق ہے۔ پھر ہم ایسے بے جان پتھروں سے کیوں مدد مانگیں جو خود کچھ نہیں کر سکتے؟ اللہ تعالیٰ تو ہم سے کہیں زیادہ قریب ہے، وہ ہماری دعائیں سنتا ہے، ہماری پکار پر لبیک کہتا ہے۔ وہی ہے جو مصیبت میں رحمت بھیجتا ہے، بیماری میں شفا دیتا ہے، اور تنگی میں کشادگی عطا فرماتا ہے۔
آئیے ہم اپنی تمام امیدیں اور بھروسہ صرف اللہ پر رکھیں، کیونکہ وہی ہے جو حقیقی مددگار ہے۔ اس کے سوا جس سے بھی ہم مدد مانگیں گے، وہ یا تو بے جان ہے یا خود کمزور اور محتاج۔ اللہ سے براہِ راست جڑیں، اس سے دعا کریں، اور اس کی رحمت پر بھروسہ رکھیں۔ یہی کامیابی اور سکون کا راستہ ہے۔
📜 آیت 190-194 — اعراف
ترجمہ — اعراف 192
سورہ اعراف آیت 192 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور…سورہ آیت 192/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 190–194. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








