اعراف · 24/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ۝٢٤
Qaalah bitoo ba`dukum liba`din aduwwunw wa lakum fil ardi mmustaqarrunw wa mataa`un ilaaheen
📖 اردو ترجمہ
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اہبطوا: نیچے اترو، زمین پر اترو
  • بعضکم لبعض عدو: تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے
  • مستقر: ٹھہرنے کی جگہ، قیام گاہ
  • متاع: فائدہ اٹھانے کا سامان، زندگی کے اسباب
  • الی حین: ایک مقررہ وقت تک، مدتِ حیات کے اختتام تک

تفسیر:

جب آدم علیہ السلام اور حوا علیہا السلام نے درختِ ممنوعہ کا پھل کھا لیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف عمل کر کے اپنے نفس پر ظلم کیا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں جنت سے نکالنے کا فیصلہ سنایا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آدم، حوا اور ابلیس تینوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: "تم سب زمین پر اتر جاؤ۔" یہ اترنا صرف جگہ کی تبدیلی نہیں تھی، بلکہ ایک نیا مرحلہ تھا جہاں انسان کو اپنی آزمائش کا سامنا کرنا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے یہ بھی واضح فرما دیا کہ اب تم میں سے بعض بعض کے دشمن ہوں گے۔ یعنی انسان اور شیطان کے درمیان دشمنی ہمیشہ رہے گی، اور یہ دشمنی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک انسان اس زمین پر زندگی بسر کرتا رہے گا۔ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور وہ ہر ممکن طریقے سے انسان کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے گا، جیسا کہ اس نے قسم کھائی تھی۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے لیے زمین میں ٹھہرنے کی جگہ ہے اور وہاں تمہیں زندگی گزارنے کا سامان بھی ملے گا۔ یعنی زمین تمہارے لیے رہائش گاہ ہوگی، اور تم وہاں کھا پی سکو گے، آرام کر سکو گے، اور اپنی ضروریات پوری کر سکو گے۔ یہ سب کچھ ایک مقررہ وقت تک ہے، یعنی تمہاری زندگی کی مدت پوری ہونے تک۔ اس کے بعد تمہیں موت آئے گی اور پھر قیامت کے دن تمہیں اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا۔

یہ آیت ہمیں بہت سے اہم اسباق سکھاتی ہے۔ سب سے پہلے، یہ کہ انسان کی زندگی اس زمین پر ایک آزمائش ہے، اور ہمیں شیطان کے دشمنانہ عزائم سے ہمیشہ چوکنا رہنا چاہیے۔ دوسرے، اللہ تعالیٰ کی رحمت کا اندازہ لگائیں کہ اس نے ہمیں زمین پر رہنے کے لیے ہر ضروری چیز فراہم کی ہے، چاہے وہ خوراک ہو، پانی ہو، یا رہائش۔ یہ سب اللہ کا فضل ہے، اور ہمیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

تیسرے، یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ دنیا ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔ ہمیں اس دنیا میں اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کی رضا کے لیے کام کرنا چاہیے، تاکہ آخرت میں ہم کامیاب ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے رہنمائی فراہم کی ہے، اور ہمیں ان پر عمل کر کے شیطان کے فریب سے بچنا ہے۔

یاد رکھیں، جب بھی آپ کو لگے کہ شیطان آپ کو گمراہ کر رہا ہے، تو اللہ سے پناہ مانگیں، کیونکہ وہی ہماری حفاظت کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شیطان کے شر سے محفوظ رکھے اور ہمیں صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 22-26 — اعراف

22فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
23قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
24قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
25قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے
26يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا ۖ وَلِبَاسُ التَّقْوَىٰ ذَٰلِكَ خَيْرٌ ۚ ذَٰلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ
اے نبی آدم ہم نے تم پر پوشاک اتاری کہ تمہارا ستر ڈھانکے اور (تمہارے بدن کو) زینت (دے) اور (جو) پرہیزگاری کا لباس (ہے) وہ سب سے اچھا ہے۔ یہ خدا کی نشانیاں ہیں تاکہ لوگ نصحیت پکڑ یں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
24آیت

ترجمہ — اعراف 24

سورہ اعراف آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب…

سورہ آیت 24/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں