اعراف · 23/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ۝٢٣
Qaalaa Rabbanaa zalamnaaa anfusanaa wa illam taghfir lanaa wa tarhamnaa lanakoonanna minal khaasireen
📖 اردو ترجمہ
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا: ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، یعنی اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔
  • تَغْفِرْ لَنَا: تو ہمیں بخش دے۔
  • تَرْحَمْنَا: تو ہم پر رحم فرمائے۔
  • الْخَاسِرِينَ: نقصان اٹھانے والے، ہلاک ہونے والے، وہ لوگ جو اپنا حصہ کھو بیٹھیں۔

تفسیر:

حضرت آدم علیہ السلام اور حوا رضی اللہ عنہا نے جب اپنی غلطی محسوس کی اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا احساس ہوا تو وہ فوراً اپنے رب کے حضور جھک گئے۔ انہوں نے نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ یہ الفاظ کہے: "اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا" یعنی ہم نے وہ کام کیا جس سے آپ نے منع فرمایا تھا، اور اس طرح ہم نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال دیا۔ انہوں نے اپنی غلطی کا الزام کسی اور پر نہیں ڈالا، نہ شیطان پر، نہ کسی اور پر، بلکہ صاف صاف اعتراف کیا کہ ہم نے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔

پھر انہوں نے اپنے رب سے التجا کی: "اور اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ فرمائے تو ہم ضرور نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔" یعنی اے اللہ! تیری بخشش اور تیرا رحم ہی ہماری نجات کا ذریعہ ہے، اس کے بغیر ہم تباہ و برباد ہو جائیں گے۔

یہ دعا دراصل وہ کلمات تھے جو اللہ تعالیٰ نے خود حضرت آدم علیہ السلام کو سکھائے تھے، اور جب انہوں نے یہ دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی۔ یہ ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ جب بھی کوئی گناہ سرزد ہو تو ہمیں فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے، اپنی غلطی کا اعتراف کرنا چاہیے، اور اللہ سے بخشش اور رحم کی دعا مانگنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے، وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور انہیں نقصان سے بچا لیتا ہے۔

یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ گناہ کے بعد مایوسی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ اللہ کی رحمت سے امید رکھتے ہوئے اس کی طرف لوٹنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ وہ اس سے معافی مانگیں۔ جو شخص اس طرح اللہ کے حضور عاجزی اور انکساری کے ساتھ توبہ کرتا ہے، اللہ اسے ضرور بخش دیتا ہے اور اسے خسارے سے بچا لیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 21-25 — اعراف

21وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ
اور ان سے قسم کھا کر کہا میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں
22فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ
غرض (مردود نے) دھوکہ دے کر ان کو (معصیت کی طرف) کھینچ ہی لیا جب انہوں نے اس درخت (کے پھل) کو کھا لیا تو ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اور وہ بہشت کے (درختوں کے) پتے توڑ توڑ کر اپنے اوپر چپکانے لگے اور (ستر چھپانے لگے) تب ان کے پروردگار نے ان کو پکارا کہ کیا میں نے تم کو اس درخت (کے پاس جانے) سے منع نہیں کیا تھا اور جتا نہیں دیا تھا کہ شیطان تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے
23قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اور اگر تو ہمیں نہیں بخشے گا اور ہم پر رحم نہیں کرے گا تو ہم تباہ ہو جائیں گے
24قَالَ اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ
(خدا نے) فرمایا (تم سب بہشت سے) اتر جاؤ (اب سے) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو اور تمہارے لیے ایک وقت (خاص) تک زمین پر ٹھکانہ اور (زندگی کا) سامان (کر دیا گیا) ہے
25قَالَ فِيهَا تَحْيَوْنَ وَفِيهَا تَمُوتُونَ وَمِنْهَا تُخْرَجُونَ
(یعنی) فرمایا کہ اسی میں تمہارا جینا ہوگا اور اسی میں مرنا اور اسی میں سے (قیامت کو زندہ کر کے) نکالے جاؤ گے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
23آیت

ترجمہ — اعراف 23

سورہ اعراف آیت 23 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : دونوں عرض کرنے لگے کہ پروردگار ہم نے اپنی جانوں…

سورہ آیت 23/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 21–25. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں