اعراف · 53/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ۚ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ ۝٥٣
hal yanzuroona illaa taa weelah; yawma yaatee taaweeluhoo yaqoolul lazeena nasoohu min qablu qad jaaa`at Rusulu Rabbinaa bilhaqq; fahal lanaa min shufa`aaa`a fa yashfa`oo lanaaa aw nuraddu fana`mala ghairal lazee kunnaa na`mal; qad khasirooo anfusahum wa dalla `anhum maa kaanoo yaftaroon
📖 اردو ترجمہ
کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تأویلہ: اس کا انجام، وہ حقیقت جس پر یہ کلام بالآخر منکشف ہوگی، یعنی قیامت کا دن اور اس کا انجام۔
  • نسوہ: انہوں نے اسے چھوڑ دیا، اس سے غفلت برتی، اور اس پر عمل نہ کیا۔
  • شفعاء: سفارش کرنے والے، مددگار۔
  • نرد: ہم واپس بھیج دیے جائیں (دنیا میں
  • خسروا انفسہم: انہوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈالا، اپنے نفس کو تباہی کے گڑھے میں جھونکا۔
  • ضل عنہم: ان سے گم ہو گیا، بے کار ہو گیا۔
  • یفترون: جو وہ جھوٹ گھڑتے تھے (شرک اور جھوٹے معبود

تفسیر:

یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو قرآن کو سن کر بھی اس پر ایمان نہیں لاتے اور اس کے وعدوں اور وعیدوں کو مذاق سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ کافر لوگ کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ کیا وہ صرف اس انجام کا انتظار کر رہے ہیں جس کی خبر قرآن نے دی ہے؟ یعنی قیامت کا دن، جب اللہ کا وعدہ اور وعید دونوں سامنے آ جائیں گے۔

جس دن وہ انجام آ جائے گا، جب حساب کتاب ہو گا اور ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ ملے گا، اس دن وہ لوگ جو دنیا میں قرآن کو بھول گئے تھے، جنہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا تھا اور اس پر عمل نہیں کیا تھا، وہ پکار اٹھیں گے: "ہمارے رب کے رسول سچ لے کر آئے تھے! انہوں نے ہمیں حق کی دعوت دی تھی، لیکن ہم نے انہیں جھٹلایا۔" اس وقت انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو گا، لیکن پشیمانی کا وقت گزر چکا ہو گا۔

وہ اس دن کہیں گے: "کیا ہمارے لیے کوئی سفارش کرنے والا ہے جو ہماری سفارش کرے؟ یا کیا ہمیں دوبارہ دنیا میں واپس بھیجا جا سکتا ہے تاکہ ہم وہ عمل کریں جو پہلے نہیں کیا تھا؟" لیکن یہ سب باتیں اس وقت بے سود ہوں گی جب فیصلہ صادر ہو چکا ہو گا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ حقیقت میں اپنے آپ کو نقصان میں ڈال چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی جانوں کو تباہی میں جھونک دیا، اور وہ سب کچھ جو وہ دنیا میں پوجتے تھے، جنہیں وہ اللہ کا شریک بناتے تھے اور جن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں گے، وہ سب اس دن ان سے گم ہو جائیں گے اور ان کے کسی کام نہ آئیں گے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ قرآن کو صرف پڑھنا کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔ جو لوگ قرآن کو چھوڑ دیتے ہیں اور اس کی ہدایت سے منہ موڑ لیتے ہیں، وہ قیامت کے دن سخت پشیمانی کا سامنا کریں گے۔ لیکن اللہ نے ہمیں ابھی موقع دیا ہے، آج ہم دنیا میں ہیں، آج ہم توبہ کر سکتے ہیں، آج ہم عمل صالح کر سکتے ہیں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ اپنے بندوں کو توبہ کی دعوت دیتا ہے۔ آئیے ہم قرآن کو اپنی زندگی کا دستور بنائیں، اس پر عمل کریں، اور اس دن کی رسوائی سے بچیں جب کوئی سفارش کرنے والا نہ ہو گا اور نہ ہی دنیا میں واپسی ممکن ہو گی۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 51-55 — اعراف

51الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ
جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے۔ اسی طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے
52وَلَقَدْ جِئْنَاهُم بِكِتَابٍ فَصَّلْنَاهُ عَلَىٰ عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچا دی ہے جس کو علم ودانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (اور) وہ مومن لوگوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے
53هَلْ يَنظُرُونَ إِلَّا تَأْوِيلَهُ ۚ يَوْمَ يَأْتِي تَأْوِيلُهُ يَقُولُ الَّذِينَ نَسُوهُ مِن قَبْلُ قَدْ جَاءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ فَهَل لَّنَا مِن شُفَعَاءَ فَيَشْفَعُوا لَنَا أَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ قَدْ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ
کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔ جس دن وہ وعدہ آجائے گا تو جو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہوں گے وہ بول اٹھیں گے کہ بےشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا (آج) ہمارا کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں یا ہم (دنیا میں) پھر لوٹا دیئے جائیں کہ جو عمل (بد) ہم (پہلے) کرتے تھے (وہ نہ کریں بلکہ) ان کے سوا اور (نیک) عمل کریں۔ بےشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا
54إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ يُغْشِي اللَّيْلَ النَّهَارَ يَطْلُبُهُ حَثِيثًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ وَالنُّجُومَ مُسَخَّرَاتٍ بِأَمْرِهِ ۗ أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ
کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا۔ وہی رات کو دن کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑتا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج اور چاند ستاروں کو پیدا کیا سب اس کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی (اسی کا ہے) ۔ یہ خدا رب العالمین بڑی برکت والا ہے
55ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
53آیت

ترجمہ — اعراف 53

سورہ اعراف آیت 53 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کیا یہ لوگ اس کے وعدہٴ عذاب کے منتظر ہیں۔…

سورہ آیت 53/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 51–55. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں