اعراف · 77/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
فَعَقَرُواْ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوۡاْ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِمۡ وَقَالُواْ يَٰصَٰلِحُ ٱئۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ  ۝٧٧
Fa`aqarun naaqata wa`ataw `an amri Rabbihim wa qaaloo yaa Saalihu` tinaa bimaa ta`idunaaa in kunta minal mursaleen
📖 اردو ترجمہ
آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
📜

ترجمہ — Tafsir

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَعَتَوْا عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ وَقَالُوا يَا صَالِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الْمُرْسَلِينَ

معانی الفاظ:

  • فَعَقَرُوا: انہوں نے اونٹنی کو کاٹ کر ہلاک کر دیا (عقر کا مطلب ہے جانور کی کونچیں کاٹ کر اسے گرانا یا زخمی کر کے مار ڈالنا
  • عَتَوْا: انہوں نے سرکشی اور تکبر کا مظاہرہ کیا، حکم ماننے سے انکار کیا۔
  • ائْتِنَا: ہمارے پاس لے آؤ، لا کر دکھاؤ۔

تفسیر:

یہ آیت قومِ ثمود کے اس انتہائی اقدام کو بیان کرتی ہے جب انہوں نے اللہ کی نشانی کو جھٹلایا اور اپنے نبی صالح علیہ السلام کی نصیحت کو ٹھکرا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک معجزاتی اونٹنی عطا کی تھی جو پہاڑ سے نکلی تھی، اور انہیں سختی سے منع کیا گیا تھا کہ اسے کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں۔ لیکن ان کی سرکشی اور ضد نے انہیں اس حد تک پہنچا دیا کہ انہوں نے اس اونٹنی کو کاٹ کر ہلاک کر دیا۔

یہ عمل محض ایک جانور کا قتل نہیں تھا، بلکہ یہ اللہ کے حکم کی صریح نافرمانی اور اس کی نشانی کی توہین تھی۔ انہوں نے "عَتَوْا" کا مظاہرہ کیا یعنی وہ اتنے متکبر ہو گئے کہ اللہ کے حکم کو ماننے سے انکار کر دیا، اور اپنی اس سرکشی کی وجہ سے وہ حق سے اندھے ہو گئے۔

پھر انہوں نے اپنی شرارت اور استہزاء کی انتہا کرتے ہوئے کہا: "اے صالح! اگر تم واقعی اللہ کے رسول ہو تو وہ عذاب لے آؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو۔" یہ کہنا ان کی طرف سے محض مذاق اور استبعاد تھا، کیونکہ وہ اس عذاب کے آنے کو ناممکن سمجھتے تھے۔ وہ یہ نہیں سمجھ رہے تھے کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور اس کی گرفت کبھی نہیں ٹلتی۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نشانیوں اور اس کے احکام کے ساتھ کبھی استہزاء نہیں کرنا چاہیے۔ جو لوگ حق کو جھٹلاتے ہیں اور نبیوں کی دعوت کا مذاق اڑاتے ہیں، وہ آخر کار اللہ کے عذاب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دل کو عاجزی اور انکساری سے بھریں، اللہ کے احکام کو بغیر کسی بحث کے قبول کریں، اور اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اس دن سے ڈرتے رہیں جب اللہ کی گرفت کسی کو نہیں بچا سکتی۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت کے ساتھ ساتھ اس کا عذاب بھی بہت قریب ہے، اور وہ اپنے وعدے کو پورا کر کے رہتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 75-79 — اعراف

75قَالَ ٱلۡمَلَأُ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُواْ مِن قَوۡمِهِۦ لِلَّذِينَ ٱسۡتُضۡعِفُواْ لِمَنۡ ءَامَنَ مِنۡهُمۡ أَتَعۡلَمُونَ أَنَّ صَٰلِحًا مُّرۡسَلٌ مِّن رَّبِّهِۦۚ قَالُوٓاْ إِنَّا بِمَآ أُرۡسِلَ بِهِۦ مُؤۡمِنُونَ 
تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور رکھتے تھے غریب لوگوں سے جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یقین کرتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف بھیجے گئے ہیں؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز دے کر وہ بھیجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں
76قَالَ ٱلَّذِينَ ٱسۡتَكۡبَرُوٓاْ إِنَّا بِٱلَّذِيٓ ءَامَنتُم بِهِۦ كَٰفِرُونَ 
تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے
77فَعَقَرُواْ ٱلنَّاقَةَ وَعَتَوۡاْ عَنۡ أَمۡرِ رَبِّهِمۡ وَقَالُواْ يَٰصَٰلِحُ ٱئۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَآ إِن كُنتَ مِنَ ٱلۡمُرۡسَلِينَ 
آخر انہوں نے اونٹی (کی کونچوں) کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم سے سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح! جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے تھے اگر تم (خدا کے) پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ
78فَأَخَذَتۡهُمُ ٱلرَّجۡفَةُ فَأَصۡبَحُواْ فِي دَارِهِمۡ جَٰثِمِينَ 
تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے
79فَتَوَلَّىٰ عَنۡهُمۡ وَقَالَ يَٰقَوۡمِ لَقَدۡ أَبۡلَغۡتُكُمۡ رِسَالَةَ رَبِّي وَنَصَحۡتُ لَكُمۡ وَلَٰكِن لَّا تُحِبُّونَ ٱلنَّٰصِحِينَ 
پھر صالح ان سے (ناامید ہو کر) پھرے اور کہا کہ میری قوم! میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچا دیا اور تمہاری خیر خواہی کی مگر تم (ایسے ہو کہ) خیر خواہوں کو دوست ہی نہیں رکھتے
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
77آیت

ترجمہ — اعراف 77

سورہ آیت 77/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 75–79. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں