ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الرَّجْفَةُ: شدید زلزلہ اور کپکپاہٹ۔
- جَاثِمِينَ: گھٹنوں کے بل گرے ہوئے، مردہ حالت میں زمین سے چپکے ہوئے۔
تفسیر آیت:
جب حضرت صالح علیہ السلام کی قوم ثمود نے اپنے سرکشی اور ضدی پن میں حد سے تجاوز کر دیا، اللہ تعالیٰ کی نشانی (اونٹنی) کو ہلاک کر ڈالا اور عذاب کو جلدی مانگنے لگے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اس گستاخی کا ایسا انجام دکھایا جس سے دل دہل جاتا ہے۔ اچانک ایک شدید زلزلہ آیا جس نے ان کی زمین کو ہلا کر رکھ دیا، ان کے دل خوف اور ہیبت سے پھٹ گئے اور وہ اپنے ہی گھروں میں اس حال میں مر کر گر پڑے کہ ان کے گھٹنے زمین سے چپک گئے تھے اور وہ منہ کے بل بےجان پڑے تھے۔ یہ عذاب اتنا اچانک اور مکمل تھا کہ ان میں سے کوئی ایک بھی بچ نہ سکا، نہ کوئی بھاگنے میں کامیاب ہوا اور نہ ہی کوئی مدد کرنے والا ان کے کام آیا۔
یہ واقعہ ہر اس شخص کے لیے ایک عبرت ہے جو اللہ کے رسولوں کو جھٹلاتا ہے اور اللہ کی نشانیوں سے کھیلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ صبر کرتا ہے لیکن جب وہ پکڑتا ہے تو ایسی پکڑ پکڑتا ہے جو کسی کو نہیں آتی۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی نافرمانی اور اس کے دین سے منہ موڑنے کا انجام ہمیشہ ذلت اور ہلاکت ہے، جبکہ ایمان اور تقویٰ والوں کے لیے اللہ کی رحمت اور حفاظت ہے۔ آئیے ہم اس سے عبرت حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے حکموں کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہم اس عذاب سے محفوظ رہیں جو قوموں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے آتا ہے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 76-80 — اعراف
ترجمہ — اعراف 78
سورہ اعراف آیت 78 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو ان کو بھونچال نے آ پکڑا اور وہ اپنے…سورہ آیت 78/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 76–80. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








