اعراف · 95/206
ترجمہ تلفظ — اعراف
ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ۝٩٥
Summa baddalnaa makaa nas saiyi`atil hasanata hattaa `afaw wa qaaloo qad massa aabaa`anad darraaa`u wassarraaa`u fa akhaznaahum baghtatanw wa hum laa yash`uroon
📖 اردو ترجمہ
پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے
📜

ترجمہ — Tafsir

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوْا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ

معانی الفاظ:

  • السَّیِّئَة: تنگی، مصیبت، سختی اور بیماری۔
  • الْحَسَنَة: خوشحالی، فراخی، عافیت اور کشادگی۔
  • عَفَوْا: کثرت میں اضافہ ہونا، تعداد اور مال میں بڑھ جانا۔
  • الضَّرَّاء: سختی، نقصان اور تکلیف۔
  • السَّرَّاء: خوشی، راحت اور خوشحالی۔
  • بَغْتَةً: اچانک، دفعتاً، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے ربانی انداز میں بتا رہے ہیں کہ جب پہلے لوگوں پر سختیاں اور مصیبتیں آئیں اور وہ ان سے عبرت حاصل نہ کر سکے تو اللہ نے اپنی رحمت اور حکمت سے ان کی حالت بدل دی۔ تنگی اور تکلیف کی جگہ خوشحالی اور فراخی عطا فرما دی، بیماریوں کی جگہ عافیت دی، اور خوف کی جگہ امن و سکون عطا کیا۔ یہاں تک کہ وہ تعداد اور مال میں خوب بڑھ گئے اور پھلے پھولے۔

مگر افسوس! یہ نعمتیں ان کے لیے آزمائش بن گئیں۔ انہوں نے ان نعمتوں کو اللہ کی طرف سے سمجھا ہی نہیں، بلکہ یہ کہنے لگے: "یہ تو زمانے کا چکر ہے، کبھی سختی آتی ہے کبھی خوشحالی، ہمارے باپ دادا پر بھی یہی حالات گزرے ہیں۔" انہوں نے ان مصیبتوں اور نعمتوں کو اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا پیغام نہ سمجھا، حالانکہ سختیاں انہیں متنبہ کرنے کے لیے آئی تھیں اور نعمتیں انہیں شکر پر ابھارنے کے لیے دی گئی تھیں۔ لیکن وہ غفلت میں ڈوبے رہے۔

پھر اللہ نے انہیں اچانک پکڑ لیا، اس طرح کہ انہیں ذرا بھی خبر نہ ہوئی۔ وہ اپنی خوشحالی اور عافیت میں مگن تھے کہ اچانک عذاب آگیا اور کوئی انتباہ نہ مل سکا۔ یہ اللہ کا قہر ہے جو غافلوں پر آتا ہے۔

موعظت اور دعوت:

پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں بہت بڑا سبق دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی قوم پر سختیاں بھیجتا ہے تو وہ اس لیے ہوتی ہیں کہ وہ اپنی غلطیوں سے باز آئیں اور اللہ کی طرف رجوع کریں۔ اور جب نعمتیں دیتا ہے تو اس لیے کہ وہ شکر کریں اور اللہ کے قریب ہوں۔ لیکن اگر انسان ان نعمتوں کو دیکھ کر سرکش ہو جائے اور یہ سمجھے کہ یہ سب میری محنت کا نتیجہ ہے، تو پھر اللہ کی پکڑ بہت سخت آتی ہے۔

یاد رکھیں! اللہ کی پکڑ اچانک آتی ہے۔ آج ہم خوشحال ہیں، کل کیا ہو جائے، کسی کو خبر نہیں۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر حالت میں اللہ کا شکر ادا کریں، سختی میں صبر کریں اور خوشحالی میں شکرگزاری کریں۔ نعمتوں کو اللہ کی طرف سے سمجھیں اور انہیں اپنے لیے باعثِ غرور نہ بنائیں۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں عافیت اور استقامت عطا فرمائے، اور ہمیں اچانک پکڑے جانے سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 93-97 — اعراف

93فَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَا قَوْمِ لَقَدْ أَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَاتِ رَبِّي وَنَصَحْتُ لَكُمْ ۖ فَكَيْفَ آسَىٰ عَلَىٰ قَوْمٍ كَافِرِينَ
تو شعیب ان میں سے نکل آئے اور کہا کہ بھائیو میں نے تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچا دیئے ہیں اور تمہاری خیرخواہی کی تھی۔ تو میں کافروں پر (عذاب نازل ہونے سے) رنج وغم کیوں کروں
94وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِّن نَّبِيٍّ إِلَّا أَخَذْنَا أَهْلَهَا بِالْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ لَعَلَّهُمْ يَضَّرَّعُونَ
اور ہم نے کسی شہر میں کوئی پیغمبر نہیں بھیجا مگر وہاں کے رہنے والوں کو (جو ایمان نہ لائے) دکھوں اور مصیبتوں میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی اور زاری کریں
95ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّيِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتَّىٰ عَفَوا وَّقَالُوا قَدْ مَسَّ آبَاءَنَا الضَّرَّاءُ وَالسَّرَّاءُ فَأَخَذْنَاهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں تک کہ (مال واولاد میں) زیادہ ہوگئے تو کہنے لگے کہ اس طرح کا رنج وراحت ہمارے بڑوں کو بھی پہنچتا رہا ہے تو ہم نے ان کو ناگہاں پکڑلیا اور وہ (اپنے حال میں) بےخبر تھے
96وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْقُرَىٰ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِم بَرَكَاتٍ مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِن كَذَّبُوا فَأَخَذْنَاهُم بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
اگر ان بستیوں کے لوگ ایمان لے آتے اور پرہیزگار ہوجاتے۔ تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکات (کے دروازے) کھول دیتے مگر انہوں نے تو تکذیب کی۔ سو ان کے اعمال کی سزا میں ہم نے ان کو پکڑ لیا
97أَفَأَمِنَ أَهْلُ الْقُرَىٰ أَن يَأْتِيَهُم بَأْسُنَا بَيَاتًا وَهُمْ نَائِمُونَ
کیا بستیوں کے رہنے والے اس سے بےخوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو واقع ہو اور وہ (بےخبر) سو رہے ہوں
اعرافقرآن فہرست
206آیت
مکیRevelation
95آیت

ترجمہ — اعراف 95

سورہ اعراف آیت 95 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر ہم نے تکلیف کو آسودگی سے بدل دیا یہاں…

سورہ آیت 95/206 — اعراف الأعراف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اعراف سنیں, اعراف ترجمہ, اعراف mp3, اعراف pdf. آیت 93–97. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں