ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- المُصَلِّینَ: نماز ادا کرنے والے، جو اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ انسان بُری طرح بے صبرا اور تنگ دل پیدا ہوا ہے۔ جب اسے کوئی مصیبت یا تکلیف پہنچتی ہے تو وہ گھبرا جاتا ہے اور چیختا چلاتا ہے، اور جب اسے خوشحالی اور راحت ملتی ہے تو وہ بخیل بن جاتا ہے اور دوسروں کا حق نہیں دیتا۔ مگر اس عمومی حکم سے نماز ادا کرنے والے مستثنیٰ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں وقت پر ادا کرتے ہیں اور کوئی شغل انہیں نماز سے غافل نہیں کر سکتا۔ یہی لوگ اپنے اموال میں مقررہ حق (زکوٰۃ) نکالتے ہیں، جو سائل اور محتاج دونوں کے لیے ہوتا ہے۔ یہ لوگ روزِ جزا پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے لیے نیک اعمال سے تیاری کرتے ہیں، اور اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے رہتے ہیں، کیونکہ اللہ کا عذاب ایسی چیز ہے جس سے کوئی بھی بے خوف نہیں ہو سکتا۔ یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، سوائے اپنی بیویوں اور ملکیت کی لونڈیوں کے، کیونکہ ان پر کوئی الزام نہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ نماز صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ انسان کے کردار کو سنوارنے کا ذریعہ ہے۔ جو شخص واقعی نماز کا پابند ہوتا ہے، اس کا دل نرم ہو جاتا ہے، وہ صبر کرنا سیکھتا ہے، سخاوت اس کی عادت بنتی ہے، اور وہ اللہ کی نافرمانی سے بچتا ہے۔ نماز ہی وہ چیز ہے جو انسان کو جزع و فزع، بخل اور غفلت سے نکال کر صبر، شکر اور تقویٰ کی طرف لے جاتی ہے۔ آئیے ہم اپنی نمازوں کو حقیقی معنوں میں قائم کریں، کیونکہ یہی کامیابی کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان مخلص نمازیوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 20-24 — معارج
ترجمہ — معارج 22
سورہ معارج آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر نماز گزارسورہ آیت 22/44 — معارج المعارج (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: معارج سنیں, معارج ترجمہ, معارج mp3, معارج pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








