ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مَسَّهُ: اسے چھو لیا، پہنچ گیا۔
- الْخَيْرُ: مال، دولت، خوشحالی، آسودگی۔
- مَنُوعًا: بہت زیادہ روکنے والا، بخیل، تنگ دل۔
تفسیرِ آیہ:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت اور اس کی کمزوری کو بیان فرمایا ہے کہ انسان جب کسی بھلائی، خوشحالی، مال و دولت یا صحت سے نوازا جاتا ہے تو وہ اللہ کا حق ادا کرنے میں بہت زیادہ بخل اور تنگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ وہ اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے گریزاں رہتا ہے، زکوٰۃ اور صدقات دینے میں کوتاہی کرتا ہے، اور اپنے پاس جو کچھ ہے اسے تھامے رکھتا ہے۔
یہ انسان کی فطری کمزوری ہے کہ وہ تنگی اور مصیبت میں گھبرا جاتا ہے اور خوشحالی اور فراخی میں بخیل بن جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کمزوری کا ذکر اس لیے کیا ہے تاکہ انسان اپنی اس خامی کو پہچانے اور اس پر قابو پانے کی کوشش کرے۔
اصلاح کا راستہ:
اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد ان لوگوں کا ذکر فرمایا ہے جو اس کمزوری سے محفوظ رہتے ہیں، یعنی وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں، اپنے مال میں سائل اور محروم کا حق مقرر کرتے ہیں، روزِ جزا پر یقین رکھتے ہیں، عذابِ الٰہی سے ڈرتے ہیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ یہی وہ صفات ہیں جو انسان کو بخل اور تنگ دلی سے نکال کر سخاوت اور فیاضی کی طرف لے جاتی ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمان بھائیو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے کہ ہم اپنے اندر جھانکیں اور دیکھیں کہ کہیں ہم بھی تو اس بیماری میں مبتلا نہیں؟ جب اللہ ہمیں مال و دولت دیتا ہے تو کیا ہم اس کا حق ادا کرتے ہیں؟ کیا ہم زکوٰۃ، صدقات اور دوسرے حقوق اللہ کے ادا کرتے ہیں؟ یاد رکھیں! مال تو اللہ کا دیا ہوا ہے، اور وہی اس کا اصل مالک ہے۔ جو کچھ ہم خرچ کرتے ہیں وہ دراصل اللہ کی راہ میں قرض ہے، اور اللہ اس کا بہت بڑا بدلہ دینے والا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سخاوت اور فیاضی عطا فرمائے، اور بخل اور تنگ دلی سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 19-23 — معارج
ترجمہ — معارج 21
سورہ معارج آیت 21 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا…سورہ آیت 21/44 — معارج المعارج (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: معارج سنیں, معارج ترجمہ, معارج mp3, معارج pdf. آیت 19–23. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








